تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 59 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 59

۵۹ کی طرف کوئی دھیان ہی نہ دے۔وہ آپ ہی آپ بھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔اپنی اصلاح میں لگ جائے دین سیکھنے اور سکھانے کی طرف متوجہ ہو۔زبان کو پاک لکھا جائے گالی گلوچ نہ کی جائے۔نمازوں کی پاندا کی جائے۔کیونکہ ان باتوں کے بغیر خدا تعالیٰ کا فضل حاصل نہیں ہو سکتا۔اگر جماعت اپنی اصلاح کرے اور تبلیغ میں لگ جائے۔تو ان لوگوں کے فتنے خود بخود مٹ جائیں گے کیونکہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ بولنے والا کامیاب نہیں ہو سکتا۔" ایک نقص کی اصلاح جماعت کی دوستوں م م ا ا ا ا ا ا ا نا کہ حضرت می مو و علی اسلام بعض و کے الہامات یا تو سرے سے پڑھتے ہی نہیں تھے اور اگر پڑھتے تھے تو سارے الہلا کو گزرے ہوئے واقعات پر چسپاں کر دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ جماعت احمدیہ ابتلاؤں کے بغیر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے گی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نہ نے ۱۴ ماہ احسان / جوان پیش کو ایک خطبہ جمعہ خاص اسی موضوع پسر ارشاد فرمایا جس میں اس خطر ناک نقص کی اصلاح کرنے کی طرف توجہ دلائی چنانچہ حضور نے فرمایا :- و ہماری جماعت کے لوگوں میں یہ وہم ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں ہماری جماعت ہمیشہ پھولوں کی سیچ پر ترقی کرتی پہلی بجائے گی۔۔۔۔میں اس ناواقفیت اور متجاہل کے متعلق کیا کہوں۔مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ ہماری جماعت کے دوست اس غلط فہمی میں کیوں مبتلا ہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے صاف ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ بڑے بڑے ابتلاؤں میں سے گزرے گی۔وہ ابتلا سیاسی بھی ہوں گے۔ہ ابتلا اقتصادی بھی ہوں گے۔وہ ابتلا مالی بھی ہوں گے۔وہ ابتلا علمی بھی ہوں گے۔وہ ابتلا قومی بھی ہوں گے۔غرض ہر قسم کے اہست لاؤں کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں ہے بحکومتوں کی طرف سے تشتد اور جھگڑوں کا بھی ان الہامات میں ذکر ہے۔اقوام کی طرف سے تشدد اور سختیوں کا بھی ان میں ذکر ہے بعض سیاسی ابتلاؤں کا بھی الہامات میں ذکر ہے بعض ہجرتوں کا بھی ذکر ہے۔اسی طرح۔قتلوں اور طرح طرح کے دکھوں سے جماعت احمدیہ کے ستائے جانے کا بھی ذکر ہے۔لیکن باوجود اس کئے میں نے بار بار کہا۔ہماری جماعت کے دوست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رقیه حاشیه هم گذشتہ جہاں انہوں شعر اسلام کی فریاد کہدیا اور ڈاڑھی منڈوا کر اپنے اسی الوجود ہونے کی صورت بنانے لگے اور پھر خاتم النبیین ہونے کا دعویٰ کر دیا "مقام شہادت صفحه ۲۸ - " فصل الخطاب صفحه ۲۵ مصنفه خواجه محمد اسمعیل صاحب) در ۱۳۱۹ مش له الفضل ا ر احسان اش صفحه ۴ تا ۶ *