تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 641 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 641

لم سے رسول کریم صلی الہ علی اسم کا کلمہ ساری دنیا پڑھے گی اور ایک دن آئے گا جب ساری دنیا پر اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ شان کے مقام سلام کی حکومت قائم ہو جائے گی عیسا کہ پہلی صدیوں میں ہوئی تھی نے حضرت خلیفہ ایسی نشانی اصلح ا مولود کی عادت تقریر قریبا این و هند تک جاری رہی۔مبلغین کی تقریریں جس کے بعد رات والی عبدالمنا ا ا ا اتارا اور تبلیغ داران نے اعلان کیا کہ اب اُن مبلغین کی محمد پورمیں پیش کی جائیں گی جنہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے عہد میں دنیا کے کناروں تک اسلام کی تبلیغ کی بچنا نچہ اس کے بعد بیرون ہند کے مبلغین نے اپنے اپنے ملک کے تبلیغی حالات سُنائے۔اس دوران میں شور و شتر بر پا کرنے والے لوگ خواتین کی جلد گالہ احمدیوں کی طرف سے صبر تحمل کا مظاہرہ سے ہو کر کھلی طرف آگئے اور ان جو حدی نوجوان پرو پے اس لئے کھڑے تھے کہ مفسد لوگ جلسہ گاہ میں داخل ہو کر فساد نہ کر سکیں ان پر پتھر برسانا شروع کر دیئے۔اس موقعہ پر فساد کرنیوالوں کی طرف سے بارش کی طرح پتھر برسائے گئے اور کئی ایک احمدی نوجوان سخت زخمی اور لہو لہان ہو گئے۔جن میں حضور کے داماد میاں عبد الرحیم احمد صاحب بھی تھے جنہیں سخت چوٹیں آئیں۔اور وہ بیہوش ہو ک گر گئے۔انہیں اُٹھانے اور سٹیج کی طرف لانے کے وقت فتنہ پردازوں نے اور زیادہ شدت کے ساتھ سنگباری کی جس سے زخمیوں کی تعداد میں اور اضافہ ہو گیا۔ان سب کو فوراً احمدی ڈاکٹروں کی طرف سے فرسٹ ایڈ ہم پہنچائی گئی اور زخموں پہ ڈاکٹر صاحبان نے پٹیاں باندھ دیں۔اس وقت ایک طرف تو زخمیوں کو پٹیاں باندھی جا رہی تھیں اور ان کے سروں اور چہروں سے بہتا ہوا خون دھودیا بھارہا تھا اور دوسری طرف جلسہ کی کارروائی با قاعدہ بھاری تھی اور احمدی مبلغین بے گناہوں اور دین کے خادموں کا خون بہانے والوں کو یہ بتا رہے تھے کہ دنیا کے کناروں تک غدا تعالے کی وحدانیت قائم کرنے اسلام کی تعلیم پھیلانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کرنے کے لئے وہ حضرت امیر المومنین کی ہدایت کے ماتحت کس قدر جد وجہد کر رہے ہیں۔اس کے بعد حضرت امیر المومنين المصلح الموعود نے پھر تقریر فرمائی اور جلسہ دُعا پر ختم ہوا۔فتنہ پر دانوں نے پہلے ہی ستم توڑنے میں کوئی کمی نہ کی تھی لیکن اس وقت تو انہوں نے اُسے انتہا ر تک پہنچا دیا جب خواتین کو جلسہ گاہ سے گھروں کو بھیجا گیا۔انہوں نے راستہ میں کھڑے ہو کر لاریوں پر حملے کئے۔اه رساله " فرقان قادیان شمارہ شہادت پر یار با صفحه ۱۹۹ له و الفضل " ۲۰ شہادت / اپریل سے ہی مسلم عالم ا و