تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 640
۱۳ عالم میں تبلیغ اسلام ہو سکے۔میں بھی اپنی چھوٹی اور غریب جماعت سے یہی مطالبہ کروں گا۔اس کے نتیجہ سے دنیا پر واضح ہو جائے گا کہ کن کے ساتھ خدا تعالے کی تائید و نصرت کا ہاتھ ہے اور کونسا فریق اسلام کا حقیقی خیر خواہ اور دلوں میں اس کا سچا در درکھتا ہے۔میری تازہ تحریک پر جوئیں نے اپنی جماعت میں ابھی حال ہی میں کی ہے اس وقت تک ڈیڑھ سو اعلی تعلیم یا فتہ نوجوان اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر چکے ہیں۔اور ایک کروڑ روپیہ کی جائیداد اس وقت تک وقف ہو چکی ہے۔پس گالیاں دینے، اینٹ اور پتھر برسانے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔اگر آپ لوگ سچے ہیں تو میں دعوت دیتا ہوں کہ میدان میں نکلیں اور اس طریق فیصلہ کو قبول کر کے اپنے دعوئی کی صداقت کو ثابت کریں لے اس کے بعد حضور نے فرمایا :- حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی جس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر میں اس وقت کرنا چاہتا ہوں اور جو مصلح موعود کے متعلق ہے، اس میں ایک علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ظاہری اور باطنی علوم سے پر کیا جائے گا اور یہ ایسی واضح علامت ہے کہ اسے بآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے۔میں جسے خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کا مصداق قرار دیا ہے تمام علما کو چیلنج دیتا ہوں کہ میرے مقابلہ میں قرآن کریم کے کسی مقام کی تفسیر لکھیں اور جتنے لوگوں سے اور جتنی تفسیروں سے چاہیں مدد لے لیں۔مگر خدا کے فضل سے پھر بھی مجھے فتح حاصل ہو گی۔ہے نیز فرمایا : میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ بیشک ہزار عالم بیٹھ جائیں اور قرآن مجید کے کسی حصہ کی تفسیر میں میرا مقابلہ کریں، مگر دنیا تسلیم کرے گی کہ میری تفسیر ہی حقائق و معارف اور روحانیت کے لحاظ سے بینظیر ہے۔اس کے بعد فرمایا۔میں خدا سے خبر پا کر اعلان کرتا ہوں کہ وہ پیشگوئی جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰ فروری ہ کے اشتہار میں فرمایا تھا، پوری ہو گئی ہے۔خدا تعالیٰ نے روبار میں مجھے اطلاع دی کہ مصلح موجود کی پیشگوئی کا مصداق میں ہی ہوں میں اس خدائے وحدہ لا شریک لہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں میں کی جھوٹی قسم کھانا مفتیوں کا کام ہے کہ یہ رویا جس کا ذکر میں نے کیا ہے۔تعدا نے مجھے بتایا ہے میں نے خود نہیں بنایا۔اگر میں اس بیان میں سچا ہوں اور آسمان و زمین کا خدا شاہد ہے کہ میں سچا ہوں تو یا د رکھنا چاہئیے کہ آخر ایک دن میرے اور میرے شاگردوں کے ذریعہ ل الفضل و ہجرت امی اس کالم ہے" الفضل " ۲۳ شهادت را پریل مش صفحه ۱ اور ۳ ، ۳