تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 619
۵۹۲ اور خیال تھا کہ کمرہ کے علاوہ جو مکان کی دوسری منزل پر واقع تھا کچھ دوست اس کے ساتھ کے برآمدہ میں بھی کھڑے ہو جائیں گے اور باقی دوست باہر کی پبلک گلی اور ساتھ کے میدان میں کھڑے رہیں گے۔مگر تقریر کے اختتام کے قریب مالک مکان کی طرفت سے حضرت خلیفہ مسیح المصلح الموعود کو پیغام آیا کہ چونکہ کمرہ چھوٹا ہے اس لئے اگر حضور کے ساتھ صرف چھ سات احباب اندر آئیں تو مناسب ہوگا۔اس پر حضرت خلیفہ امسیح المصلح الموعود نے مجھے ارشاد فرمایا کہ شاید مالک مکان لوگوں کی کثرت سے گھبراتے ہیں اس لئے تم جلدی سے جا کر مکان کے دروازے پر کھڑے ہو جاؤا اور پہلی فہرست کو منسوخ سمجھو اور صرف چند دوستوں کو اندر بھجوا دو اور فرمایا کہ تم خود بھی آجانا اور میاں شریف احمد صاحب بھی آجائیں۔اور ناظروں میں سے ناظر اعلی آجائیں اور تین چار دوست پرانے صحابہ میں سے آجائیں جنہیں تم دیکھ کر اندر بھجوا دیتا۔چنانچہ میں نے دروازہ پر جا کہ اعلان کر دیا کہ اب سابقہ فہرست کے مطابق کوئی دوست از خود اندر نہ تشریف لے جائیں بلکہ میرے بلانے پر اندر آئیں۔اور اس کے بعد میں نے مجمع پر نظرڈال کر ایک ایک دوست کو آواز دے کر اندر بھیجوانا شروع کیا اور خدا کا فضل ایسا ہوا کہ مجھے مالک مکان کی عملی رضامندی کے ساتھ حضرت خلیفہ ایسے الصلح الموعود کے علاوہ ۳۵ اصحاب کو اندر بھجوانے کا موقعہ میل گیا۔گو بعد میں مجھے یہ معلوم کر کے افسوس ہوا کہ بعض ایسے اصحاب باہر رہ گئے جو اگر اس وقت میری نظر کے سامنے آجاتے تو میں انہیں بھی ضرور اندر لے جانے کی کوشش کرتا۔مگر وہ اس وقت میری نظر سے اوجھل رہے۔یہ نہ المختصر جب کمرہ بالکل بھر گیا اور کسی اور کے داخل ہونے کی گنجائش نہ رہی تو حضرت امیر المؤمنين الصلح الموعود نے ارشاد فرمایا کہ اس موقع پر کسی ذاتی غرض کے لئے دُعانہ کی جائے بلکہ صرف اسلام کی ترقی وشوکت کے لئے دعا کی بجائے اس کے بعد حضور نے ہاتھ اُٹھا کر دعا کی جس میں وہ تمام احمدی احباب بھی شریک ہوئے جو مکان کے نیچے گلی اور میدان میں گھڑے تھے۔دعا نہایت گریہ و زاری سے قریباً دس منٹ ہوئی۔دعا سے فراغت کے بعد حضور نیچے تشریف لائے اور اسی وقت موٹر میں سوار ہو کر لاہور کے لئیے روانہ ہو گئے۔کئے له " الفضل " ۲۵ تبلیغ فروری ۳ ده مش صفحه ۲ کالم ۳-۴ $