تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 617 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 617

04۔سخت ہوں گے تو فرشتے اُن کو اپنے ہاتھ سے ملیں گے یہانتک کہ وہ نرم ہو جائیں گے اور اُن کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔سالہ حضرت سید تا المصلح الموعو وہ اس پر اثر خطاب کے بعد چلہ کشی والے مقدس و مقدس کمرہ میں اجتماعی دعا مدیر کوہ میں تشریف لے گئے جوان دنوں ایک مرز مین ویٹو کردن درس کی ملکیت تھا جنہوں نے اُسے شیخ مہر علی صاحب سے خرید کر اس پر ایک مکان تعمیر کر کے اس کے بالائی حصہ پر سیز رنگ کر دیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چلہ کشی والا بالا خانہ اپنی اصلی شکل میں موجود نہیں تھا۔لیکن اسی موقعہ اور انہی بنیادوں پر ایک کمرہ تعمیر شدہ تھا جہاں سیٹھ صاحب نے بڑی خوشی سے دُعا کرنے کی اجازت دی۔بلکہ حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب ناظر دعوت و تبلیغ کے ذریعہ خواہش کی کہ اگر حضرت مرزا صاحب یہاں تشریف لائیں تو میری بڑی خوش قسمتی ہوگی۔چنانچہ جب حضور مکان پر تشریف لے گئے تو جناب سیٹھ صاحب اور اُن کے خاندان کے دوسرے افراد نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ استقبال کیا اور ایک بڑے آراستہ کمرہ میں جو مکان کے دوسرے کونے میں واقعہ تھا، حضور کو بٹھایا اور حضور کی خدمت میں پھیل پیش کئے اور اپنے خاندان کے افراد کا تعارف کرایا۔اس کے بعد حضور مقدس کمرہ میں تشریف لے گئے اور قبلہ رخ دوزانو بیٹھ کر تسبیح و تحمید کرنے لگے اس کمرہ میں اس وقت کے لئے فرش کا انتظام جماعت کی طرفت سے کیا گیا تھا۔جگہ کی تنگی کی وجہ سے حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کے علاوہ حسب ذیل پینتیں احباب اس کمرہ میں تشریف لے گئے جنہیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک ایک کر کے انتظام کے ساتھ اندر بھجوایا۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ۹- صاحبزادہ مرزا مبشر احمد صاحب صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ۱۰ صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب ار صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ہ صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب ۱۲ حضرت خان محمد عبد اللہ خان صاحب صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب ۱۳ صاحبزادہ مسعود احمد خان صاحب ا صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب ۱۴ صدا نیز اد عباس احمد خان صاحب نمه صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب له الفضل ۱۹ تبلیغ فروری با مش صفرم کالم ۱ - ۲ * 7149۔۱۵ حضرت مولانا شیر علی صاحب ۱۹ حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب نے