تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 39 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 39

۳۹ دوم۔میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ اسلام صرف قصوں پر اپنے دعوی کی بنیاد نہیں رکھتا۔بلکہ وہ ہرشخص کو تجربہ کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر سچائی کسی نہ کسی رنگ میں اسی دنیا میں کچھ جا سکتی ہے اور اس طرح وہ میرے دل کو اطمینان بخشتا ہے۔سوم میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ اسلام مجھے یہ سبق دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے کام میں اختلاف نہیں ہوتا اور وہ مجھے سائنس اور مذہب کے جھگڑوں سے آزاد کر دیتا ہے۔وہ مجھے یہ نہیں سکھاتا کہ میں قوانین قدرت کو نظر انداز کر دوں اور ان کے مخلاف باتوں پر ہی تین رکھوں۔بلکہ وہ مجھے قوانین قدرت پر غور کرنے اور اُن سے فائدہ اُٹھانے کی تعلیم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ چونکہ کلام نازل کرنے والا بھی خدا ہے اور دنیا کو پیدا کرنے والا بھی خدا ہے اس لئے اس کے فعل اور اس کے قول میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔پس چاہئیے کہ تو اس کے کلام کو سمجھنے کے لئے اس کے فعل کو دیکھے اور اس کے فعل کو سمجھنے کے لئے اس کے قول کو دیکھے۔اور اس طرح اسلام میری قوت فکریر کو تسکین بخشتا ہے۔چہارم۔میں اسلام پر میں لئے یقین رکھتا ہوں کہ وہ میرے جذبات کو کھلتا نہیں بلکہ ان کی صحیح رہ نمائی کرتا ہے۔وہ نہ تو میرے جذبات کو مار کر میری انسانیت کو جہادیت سے تبدیل کر دیتا ہے اور نہ جذبات اور خواہشات کو بے قید چھوڑ کر مجھے حیوان کے مرتبہ پر گرا دیتا ہے۔بلکہ جس طرح ایک ماہر انجیرہ آزادیانیوں کو قید کر کے نہروں میں تبدیل کر دیتا ہے اور بنجر علاقوں کو سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے اسی طرح اسلام بھی میرے جذبات اور میری خواہشات کو مناسب قیود کے ساتھ اعلیٰ اخلاق میں تبدیل کر دیتا ہے۔وہ مجھے یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ نے تجھے محبت کرنے والا دل تو دیا ہے مگر ایک رفیق زندگی کے اختیار کرنے سے منع کیا ہے ، یا کھانے کے لئے زبان میں لذت اور دل میں خواہش تو پیدا کی ہے مگر عمدہ کھانوں کو تجھ پر حرام کر دیا ہے۔بلکہ وہ کہتا ہے کہ تو محبت کر مگر پاک محبت اور جائز محبت جو تیری نسل کے ذریعہ سے تیرے پاک ارادوں کو ہمیشہ کے لئے دنیا میں محفوظ کر دے اور تو بے شک اچھے کھانے کھا مگر بعد کے اندر رہ کر تا ایسا نہ ہو کہ تو تو کھائے مگر تیرا ہمسایہ بھوکا ر ہے۔غرض وہ تمام طبیعی تقاضوں کو مناسب قیود کے ساتھ طبیعی تقاضوں کی حد سے نکال کر اگلی اخلاق میں داخل کر دیتا ہے اور میری انسانیت کی تسکین کا موجب ہوتا ہے۔