تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 38
حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی حضرت خلیفہ ایسی نشانی نے کی اشیا ریڈیو اسی معنی کے کار پر ان ان تقریر بمبئی ریڈیو اسٹیشن - سے کی خواہش پہ ہمیں اسلام کو کیوں مانتا ہوں“ کے عنوان سے ایک اُردو تقریر لکھی جو ۱۹ تبلیغ فروری میں کو ساڑھے آٹھ بجے شام بھیٹی 14% نمبرا کے براڈ کاسٹنگ اسٹیشن سے نشر کی گئی۔ریڈیو والوں نے تقریر سے قبل اور بعد یہ معذابت کی۔کہ بعض مجبوریوں کے باعث حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی زبان مبارک سے ہم بید تقریر نہیں سنا سکے بلکہ دوسرے شخص کو پڑھنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔قادیان میں حضور کی تقریر سننے کے لئے میاں عبد الغفور خاں صاحب پٹھان نے نظارت تعلیم و تربیریت کی اجازت سے اپنا ریڈیو سیٹ لگا دیا۔جہاں مردوں اور عورتوں نے تقریر سنی۔مستورات کے لئے پردہ کا الگ انتظام موجود تھائیے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنی لطیف تقریر کے شروع میں بتایا کہ چونکہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان صاحب تجربہ لوگوں میں سے ہوں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود کو متعدد بار اور مخارق عادت طور پہ ظاہر کیا۔اس لئے میرے لئے اس سے بڑھ کر کہ میں نے اسلام کی سچائی کو خود تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔اس تمہید کے بعد حضور نے اُن لوگوں کے لئے جنہیں یہ تجربہ حاصل نہیں ہوا۔اسلام کے دین حق ہونے پر پانچ بنیاد کی دلائل دیئے جو حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔اول۔میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان تمام مسائل کو حسن کا مجموعہ مذہب کہلاتا ہے ، مجھ سے زبر دستی نہیں منواتا۔بلکہ ہر امر کے لئے دلیل دیتا ہے۔خدا تعالے کا وجود ، اس کی صفات فرشتے ، دعا اور اس کا اثر ، قضاء و قدر اور اس کا دائرہ ، عبادت اور اس کی ضرورت ، شریعت اور اس کا فائدہ ، الہام اور اس کی اہمیت ، بحث ما بعد الموت ، جنت ، دو نرخ ، ان میں سے کوئی امر بھی ایسا نہیں میں کے متعلق اسلام نے تفصیلی تعلیم نہیں دی۔اور جیسے عقل انسانی کی تسلی کے لئے زیر دست دلائل کے ساتھ ثابت نہیں کیا۔پس اس نے مجھے ایک مذہب ہی نہیں دیا بلکہ ایک یقینی علم بخشا ہے جس سے کہ میری عقل کو تسکین حاصل ہوتی ہے اور وہ مذہب کی ضرورت کو مان لیتی ہے۔ن الفضل " لا تبلیغ / فروری با این صفحه ۲ کالم ملا ہے ۶۱۹۴۰