تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 567 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 567

کوشنا تا رہتا ہوں" ہے ہیش کے بعد آپ کئی بار پہلی بیماری میں مبتلا ہوئے مگر برا پر خدمت بیماری کا آخری حملہ اور وفات دین میں مصروف رہے یہانتک کہ وسط امان مار پیش کو اس کا ایسا سخت حملہ ہوا کہ بھائیر نہ ہو سکے چنانچہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب فرماتے ہیں :- میر صاحب رضی اللہ عنہ کو کئی سال سے ایک بیماری تھی جو خود کر کر کے آتی متقی یعنی ان کے دماغ کا مصفا پانی ناک کے راستے ٹیکنا شروع ہو بہاتا اور پھر خود ہی بند ہو جایا کرتا تھا۔یہ ایک بہت شاز بیماری ہے جس کا کا علاج اب معلوم نہیں ہوا ہر ماہ کے عمرو بہت ہوجاتے تھے اور خانہ سے اسے کوئی علاج اب تک معلوم نہیں ہوا۔ہر حملہ کے بعد مرحوم بہت کمزور ہو جاتے تھے اور اہل خانہ سے اسے چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔تاکہ وہ گھبرا نہ جائیں۔لاہور کے جلہ مصلح موعود سے واپس تشریف لائے تو نزلہ ہو گیا بخار آنے لگا اور ناک میں سے پانی گرنا پھر شروع ہو گیا۔۱۴ مارچ کو مجھے بلایا۔میں نے نسخہ تجو یہ کیا۔اشارہ سے کہا کہ والدہ داؤد کو اس پانی کے گرنے کی خبر نہ ہو۔4 ار مارچ کی شام کو بجے شیخ احسان علی معنا کی دوکان کے آگے ملے۔فرمایا کہ سر میں شدید درد ہے۔کئی ٹکیاں اسپرین کی کھا چکا ہوں۔اب گھر بھا رہا ہوں۔رگیسٹ ہاؤس میں مقیم تھے، میں یہ سنکر مسجد مبارک میں عصر کی نماز پڑھنے چلا گیا۔نماز سے فارغ ہوا تھا کہ کسی نے کہا کہ میر صاحب دار الشیوخ میں بڑ کے درخت کے نیچے پڑے ہیں اور گر کی بیہوش ہو گئے ہیں۔جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ لڑکے انہیں دبا رہے تھے اور پیر جھنس رہے تھے۔میاں عبد المنان صاحب بھی پاس تھے۔فرمایا کہ نا قابل برداشت درد میرے سر میں ہے اور بغیر مارفیا کے کسی چیز سے فائدہ نہ ہو گا۔میں نے شیخ احسان علی صاحب کے ہاں سے مار یا انجکشن تیار کرا کے منگائی اور لگا دی۔تھوڑی دیر کے بعد قدرے سکون ہو گیا۔اتنے میں حضرت امیر المومنین ایک اللہ تعالے نے گیسٹ ہاؤس تک بھانے کے لئے اپنی موٹر بھیج دی۔تھوڑی دیر میں لیٹے لیٹے پھار پائی پر بیٹھ گئے اور نہایت جوش سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں (یا تم گواہ رہو) کہ اللہ تعالیٰ وَحْدَهُ لا شريك ہے۔اس کے بعد ہم نے کہا کہ موٹر احاطہ سے باہر کھڑی ہے اس پر سوار ہو جائیں۔فرمانے لگے۔میرے لئے اب یہ بھی ناممکن ہے اس پر کئی لڑکوں نے ان کی چار پائی اُٹھالی اور باہر موٹر کے پاس لے گئے۔فرمانے لگے یونہی گھر لے چلو مجھے اور مولوی عبد المنان صاحب کو فرمایا کہ گھر تک ہمراہ رہیں۔گھر میں آکر منایا گیا بیوی مدینے آئیں تو ہاتھ اُٹھا له " الفضل ٢٠ فتح سمير رمیش سے منعقده ۱۲ر امان ماری ہیں۔تفصیل آگے آئیگی انشاء اللہ + :