تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 566
۵۴۵ خطوط لکھے۔کثیر التعداد افراد نے آپ کی خدمت میں خود حاضر ہو کہ اظہار محبت کیا۔بعض نے نسخے تجویز کئے اور بعض نے بذریعہ پارسل ادویہ بھی ارسال کر دیں اسی طرح بعض نے صدقے بھی دیئے۔آپ قادیان میں حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے زیر علاج تھے اور اُن کی ہدایت کے ماتحت تمام کاموں سے فارغ ہو کر ہر وقت بستر پر لیٹے رہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیماری اپنی جگہ رک گئی اور ٹیکوں کی وجہ سے بدن اور سر میں آہستہ آہستہ طاقت محسوس ہونے لگی۔جب اس عارضہ سے ذرا فاقہ ہوا تو آپ دوبارہ مفوضہ خدمات بجالانے لگے۔جس طرح عشق قرآن میں حضرت خلیفہ اسی الاول رضی اللہ عنہ ضرب الش تھے۔درس حدیث کا دوبارہ اجراء اسی طرح عشق رسول کے باب میں حضرت میر صاحب کا مقام تھا۔یہی وجہ ہے حضرت میر صاحب نے بیماری سے اُٹھنے کے معاً بعد سب سے پہلا کام یہی کیا کہ مسجد اقصی میں بخاری کا درس دوبارہ شروع کر دیا۔ہجو آپ کی زندگی کا محبوب اور مقدس ترین مشغلہ تھا بیچنا نچہ خود ہی فرماتے ہیں :۔" مجھے خدا کی بندگ کتاب قرآن مجید کے بعد حضور رسول مقبول صلے اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے عشق ہے اور سرور کائنات کا کلام میرے لئے بطور غذا کے ہے کہ جس طرح روزانہ اچھی غذا ملنے کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔اسی طرح بغیر سید کو تین کے کلام کو ایک دو دفعہ پڑھنے کے میری طبیعت بیچین رہتی ہے۔جب کبھی میری طبیعت گھبراتی ہے تو بجائے اس کے کہ میں باہر سیر کے لئے کسی باغ کی طرف نکل بھاؤں میں بخاری یا مہ بہت کی کوئی اور کتاب نکال کر پڑھنے لگتا ہوں اور مجھے اپنے پیارے آقا کے کلام کو پڑھ کر خدا کی قسم وہی تفریح حاصل ہوتی ہے۔جو ایک غمزدہ گھر میں بند رہنے والے کو کسی خوشبودار پھولوں والے باغ میں سیر کر کے ہو سکتی ہے اور میری تو یہ حالت ہے کہ باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا میرا بستان کلام احمد ہے اور واقعہ میں میرے آقا کا کام ایسا پاکیزہ ، ایسا پیارا ، ایسا دلفریب اور ایسا دلربا ہے کہ کاش دنیا اسے پڑھے اور پھر اسے معلوم ہو کہ میرے بادشاہ کا منہ ایسے پھول برساتا تھا کہ جن کی خوشبو اگر ایک دفعہ کوئی سونگھ لے۔پھر اُسے دنیا کی کوئی خوشبو کوئی خطر اور کوئی پھول اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا۔اور میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ لوگ میرے آقا کا کلام پڑھیں اور سنیں۔اسی لئے میں بخاری شریف کی مد میں لوگوں سے الفصل ۲۴ ہجرت اعلی است صفحه ۵ ( مضمون حضرت میر محمد اسحاق صاحب۔