تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 559
تھے دونوں وقت میں بھی شریک ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے ہم عربی میں آشیقینی السماء کہ کہ پانی مانگا کرتے تھے۔بچپن میں بیسیوں دفعہ ایسا ہوا کہ حضور نے مغرب و عشاء اندر عورتوں کو جماعت سے پڑھائیں اور کہ وعشاء اندر میں آپ کے دائیں طرف کھڑا ہوتا۔عورتیں پیچھے کھڑی ہوئیں۔غالباً میں پیدائشی احمدی ہوں۔نہایت چھوٹی عمر سے اب تک حضور کے دعاوی پر ایمان ہے۔آپ کے وصال کے بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب کو دل سے صدیق اکبر اور سچا خلیفہ تسلیم کیا حضرت خلیفہ اول سے بچپن سے نہایت بے تکلفی اور محبت و پیار کا تعلق تھا۔اُن کی وفات پر سچے دل سے صاحبزادہ محمود احمد صاحب کو خلیفہ ثانی سمجھا اور سمجھتا ہوں باقاعدہ اور بے قاعده مولوی عبدالکریم صاحب ، محافظ روشن علی صاحب ، مولوی سرور شاہ صاحب مولوی محمد معین صاحب اور حضرت خلیفہ اول سے عربی علوم کے پڑھنے کی کوشش کی بنا شائد میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ان میں صدر انجمن احمدیہ قادیان کی ملازمت میں داخل ہوا۔جامعہ احمدیہ کے قیام سے قبل مدرسہ احمدیہ میں مدرس تھا۔اب جامعہ احمدیہ میں پڑھاتا ہوں۔اس ملازمت کے علاوہ بعض اور کام بھی خلافت ثانیہ میں سلسلہ کے سر انجام دینے کی کوشش کرتا رہتا ہوں حضرت مسیح موعود کے وجود سے بنو شرف حاصل ہوئے وہ اس لئے لکھتے ہیں کہ ابتداء ایسی اچھی ہے۔پڑھنے والے دعا کریں کہ انتہاء بھی ایسی ہی اچھی ہو کہ عروسی بود نوبت ما تمت اگر ہر نکوئی بود خاتمت اله ہر حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی حضرت پیر مہربانی کے مستان کے صف اول یک جامد احمدیہ کے پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض بجا لاتے رہے۔بعد ازاں ہ دیش میں علالت اور وصیت آپ کو مدرسہ احمدیہ جیسی مرکزی درسگاہ کی قیادت سپرد ہوئی۔اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے علاوہ نظارت ضیافت ، دار الشیوخ اور دوسرے جماعتی شعبوں کو جماعت میں مقبول اور محبوب بنانے میں آپ نے دن رات ایک کر دیا۔حضرت میر صاحب نہایت قلیل گذارہ پر نہایت تنگی کی حالت میں بسر اوقات کرتے تھے۔اور آپ کی زندگی سرتا پا جہاد تھی۔از ماه شهادت / اپریل رش کا واقعہ ہے کہ حضرت میر صاحب نے یکا یک بیمار ہو گئے اور ناک کے دائیں تکھنے سے نیلے پانی کے قطرے گرنے لگے اور آنکھوں میں سخت آشوب کی کیفیت پیدا ہو گئی۔دماغ کھو کھلا معلوم ہونے له رسالة "جامعة الحديد" (سالنامه) قادیان صفحه ۰۴