تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 37 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 37

عبادتیں، اُس کی قربانیاں ، اُس کا ذکرہ ، اس کی آہی کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔کیونکہ اللہ تعالی اس کے استقلال کا امتحان لیتا ہے اور سالک اپنی کوششوں کو بے اثر پاتا ہے۔کئی تھوڑے دل والے مایوس ہو جاتے ہیں اور کئی ہمت والے کوشش میں لگے رہتے ہیں یہانتک کہ اُن کی مراد پوری ہو بھاتی ہے۔مگر یہ دن بڑے ابتلاء کے دن ہوتے ہیں اور سالک کا دل ہر لحظہ مرجھایا رہتا ہے اور اس کا حوصلہ پست ہو ہو جاتا ہے۔چونکہ چاند کے عکس کا اس طرح آگے آگے دوڑتے پہلے جانے کا بہترین نظارہ کشتی میں بیٹھ کر نظر آتا ہے جو میلوں کا فاصلہ طے کرتی جاتی ہے مگر پچاند کا عکس آگے ہی آگے بھا کا چھلا بھاتا ہے، اس لئے میں نے کہا بیٹھے کہ جب عشق کی کشتی میں آؤں تیرے پاس آگے آگے چاند کی مانند تو بھاگا نہ کر میں نے اس شعر کا مفہوم دونوں بچیوں کو سمجھانے کے لئے اُن سے کہا کہ آؤ ذرا میرے ساتھ سمندر کے پانی میں پہلو اور میں انہیں لے کر کوئی پچاس ساتھ گز سمندر کے پانی میں گیا اور میں نے کہا۔دیکھو چاند کا عکس کس طرح آگے آگے بھاگا جاتا ہے۔اسی طرح کبھی کبھی بندہ کی کوششیں اللہ تعالے کی ملاقات کے لئے بیکار ہو جاتی ہیں اور وہ بہتنا بڑھتا ہے اتنا ہی اللہ تعالی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔اور اس وقت سوائے اس کے کوئی علاج نہیں ہوتا کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی سے رحم کی درخواست کرے اور اسی کے کرم کو چاہیے تاکہ وہ اس انتظار کے سلسلہ کو بند کر دے اور اپنی ملاقات کا شرف اُسے عطا کرے۔اس کے بعد میری نظر چاند کی روشنی پر پڑی۔کچھ اور لوگ اس وقت کہ رات کے بارہ بجے تھے سیر کے لئے سمندر پر آگئے۔ہوا تیز چل رہی تھی۔لڑکیوں کے برقعوں کی ٹوپیاں ہوا سے اُڑی جا رہی تھیں۔اور وہ زور سے اُن کو پکڑ کر اپنی جگہ پر رکھ رہی تھیں۔وہ لوگ گو ہم سے دُور تھے مگر میں لڑکیوں کو لیے کہ اور دور ہو گیا اور مجھے خیال آیا کہ چاند کی روشنی جہاں دلکشی کے سامان رکھتی ہے وہاں پردہ بھی اُٹھا دیتی ہے اور میر اخیال اس طرف گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کبھی بندہ کی کمزوریوں کو بھی ظاہر کر دیتے ہیں اور دشمن انہیں دیکھ کر ہنستا ہے اور میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا اسے شعاع نور یوں ظاہر نہ کہ میرے عیوب غیر میں چاروں طرف اُن میں مجھے رسوا نہ کر لے ن الفضل و وفا جولائی اسایش صفحه ۱-۲ : " 190-