تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 558
۵۳۹ مریم بیگم کی وفات پر جس اخلاص کا اظہار جماعت نے کیا رہ ایمان کو نہایت ہی بڑھانے والا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیح موعود علیہ السلام کی برکت ہی ہے جس نے جماعت میں ایسا اخلاص پیدا کر دیا ہے۔اللہ تعالی ان کے اخلاص کو قبول کرے۔ان کی غلطیوں کو دور کرے اور نیکیوں کو بڑھائے اور ان کی آئندہ نسلوں کی اپنے ہاتھوں سے تربیت فرمائے۔اللهم آمین" سے حضرت میر محمد اسحاق صاحت کا امنا وصال حضرت اہم امر رضی الہ عنہا کی اردو کی موت کے زخم ۳۲۳ پیش ابھی تازہ ہی تھے کہ صرف بارہ روز بعد که امامان مامانی کو جماعت احمدیہ کے فقید المثال محبت اور عظیم المرتبت عالم منتظر حضرت میر محمد اسحاق صاحب بھی رحلت فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون قبیل اس کے کہ اس انتہائی المناک ساتھہ پر روشنی خوردنوشت حضرت میر صاحب کی خود نوشت سوانح حیات پائی جائے مناسب معلوم ہتا ہے کو تری یا حق کہ حضر صاحب کے ابتدائی سوانح حیات کا تذکرہ آپ کے اپنے مبارک الفاظ میں کر دیا جائے حضرت میر صاحب نے دسمبر نہ میں تحریر فر مایا کہ میری پیدائش ستمبر تالہ کو بمقام لدھیانہ ہوئی یہاں حضرت والد صاحب مرحوم سرکاری ملازم تھے۔الا شاہ کے بعد سے مستقل سکونت قادیان میں ہے۔قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے دار میں تھا۔بچپن سے ۱۸ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود کے روز و شب کے حالات مشاہدہ میں آئے اور اب تک قریباً اسی طرح ذہن میں محفوظ ہیں۔گورداسپور ، بٹالہ ، لاہور ،سیالکوٹ اور دہلی کے سفروں میں ہمرکاب ہونے کا فخر حاصل ہے۔آخری بیماری کی ابتداء سے وصال تک حضرت جری اللہ فی مصل الانبیاء کے پاس رہا بحضور نے متعدد مرتبہ مجھ سے لوگوں کو خطوط کے جوابات لکھوائے حقیقۃ الوحی کا مسودہ مختلف جگہ سے فرماتے گئے اور میں لکھتا گیا۔روزانہ سیر میں آپ کے ساتھ جاتا اور بجانے کے اہتمام مثلاً قضاء حاجت و وضو کا انصرام اور ہاتھ میں رکھنے کی چھڑی تلاش کر کے دینے سے سینکڑوں دفعه مشترف ہوا۔آپ کی کتابوں میں بیسیوں جگہ میرا ذکر ہے۔آپ کے بہت سے نشانوں کا عینی گواہ ہوں اور بہت سے نشانوں کا مورد کبھی ہوں۔جن دنوں منصور باہر مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے سلة" الفضل وفا جونائی اش به ۶۱۹۴۴ سے حضرت میر ناصر نواب صاحب دہلوی ( نبیرہ حضرت خواجہ میر درد رحمت اله علیه) د۔