تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 550
۵۳۱ مریم بیگم کو پہلے بچہ کی پیدائش پر ہی اندرونی بیماری لگ گئی تھی جو ہر بچہ کی پیدائش پر بڑھ جاتی تھی اور جب بھی کوئی محنت کا کام کرنا پڑتا تو اس سے اور بھی بڑھ جاتی تھی میں نے اس کے لئے ہر چند علاج کروایا مگر فائدہ نہ ہوا۔دو دفعہ ایچی سن ہاسپیٹل میں داخل کروا کر علاج کروایا۔ایک دفعہ لاہور چھاؤنی میں رکھ کر علاج کروایا۔کرنل نلسن ، کرنل ہینز ، کرنل کا کس وغیرہ ہوئی کے ڈاکٹروں سے مشورے بھی لئے ، علاج بھی کروائے مگر مرض میں ایسی کمی نہیں آئی کہ صحت) عود کر آئے بلکہ صرفت عارضی افاقہ ہوتا تھا۔چونکہ طبیعت حسّاس تھی کسی بات کی برداشت نہ تھی۔کئی دفعہ ناراضنگی میں بیہوشی کے دورے ہو بھاتے تھے اور ان میں اندرونی اعضاء کو اور صدمہ پہنچ جاتا تھا۔آخر میں نے دل پر پتھر رکھ کر اُن سے کہہ دیا کہ پھر دورہ ہوا تو میں علاج کے لئے پاس نہ آؤں گا چونکہ دورے ہسٹیریا کے تھے نہیں جانتا تھا کہ اس سے فائدہ ہوگا۔اس کے بعد صرف ایک دورہ ہوا۔اور میں ڈاکٹر صاحب کو بلا کر فورا چلا گیا۔اس وجہ سے آئندہ اُنہوں نے اپنے نفس کو روکنا شروع کر دیا۔اور عمر کے آخری تین چار سالوں میں دورہ نہیں ہوا۔میں نے اوپر لکھا ہے کہ ان کا دل کام میں تھا کتاب میں نہیں جب سارہ بیگم فوت ہوئیں تو مریم کے کام کی روح بھری اور انہوں نے لجنہ کے کام کو خود سنبھالا۔انہوں نے بلینہ میں جان ڈال دی۔آج کی لجنہ وہ لمبند نہیں جو امتہ الحی مرحومہ یا سادہ بیگم مرحومہ کے زمانہ کی تھی۔آج وہ ایک منظم جماعت ہے جس میں ترقی کرنے کی بے انتہار قابلیت موجود ہے۔انہوں نے کئی کو ناراض بھی کیا مگر بہتوں کو خوش کیا۔بیواؤں کی خبرگیری، بیتائی کی پرورش ، کمزوروں کی پرسش ، جلسہ کا انتظام ، باہر سے آنے والی مستورات کی مہمانوازی اور خاطر مدارات غرض ہر بات میں انتظام کو آگے سے بہت ترقی دی۔اور جب یہ دیکھا جائے کہ اس انتظام کا اکثر حصہ گرم پانی سے بھری ہوئی ریٹہ کی بوتلوں کے درمیان چارپائی پر لیٹے ہوئے کیا جاتا تھا تو احسان شناس کا دل اس کمزور ہستی کی محبت اور قدر سے بھر جاتا ہے۔اسے میرے رب! تو اس پر رحم کر اور مجھ پر بھی۔ٹہ میں میں سندھ میں تھا کہ مرحومہ سخت بیمار ہوئیں اور دل کی حالت خراب ہو گئی۔مجھے تار گئی کہ دل کی حالت خواب سے میں نے پوچھا کہ کیا میں آجاؤں تو جواب گیا کہ نہیں۔اب طبیعت سنیل گئی ہے۔یہ دورہ مہینوں تک چلا اور کہیں جون جولائی میں بھا کو افاقہ ہوا۔اس سال انہی دنوں میں اقتہ ناصر احمد کو بھی دل کے دورے ہوئے۔نہ معلوم اس کا کیا سبب تھا۔ہ کے مئی میں میں اُن کو دہلی لے گیا کہ اُن کا علاج حکیموں سے کو داؤوں حکیم محمود احمد خالصاحب کے صاحبزادے کو دکھایا اور علاج تجویز کر وایا مگر مرحومہ علاج صرف اپنی مرضی کا کردا سکتی تھیں۔چنانچہ وہ علاج انہیں پسند نہ آیا۔اور انہوں نے پوری طرح کیا نہیں۔وہاں بھی چھوٹا سا ایک دورہ اندرونی تکالیف کا ہوا۔جماعت کی مستورات اس امر کی گواہ ہیں کہ انہوں نے باوجود علم کی کمی۔