تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 519
۵۰۰ علاوہ دو اور پیشگوئیوں کی طرف اس میں اشارہ کیا گیا ہے۔پہلی پیشگوئی حیں نہیں یہ ذکر ہے کہ انہیں سو سال سے کنواریاں میرا انتظار کر رہی تھیں۔وہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک پیشگوئی ہے جس کا انجیل میں ذکر آتا ہے حضہ کیسے فرماتے ہیں جب میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا تو بعض تو میں مجھے مان لیں گی اور ہے۔بعض قومیں انکار کریں گی۔آپ ان اقوام کا تمثیلی رنگ میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے کچھ کنواریاں اپنی اپنی مشعلیں لے کر دولہا کے استقبال کو نکلیں وہ دولہا کے انتظار میں بیٹھی رہیں ، بیٹھی رہیں اور بیٹی رہیں مگر دولہا نے آنے میں بہت دیر لگائی جو عقلمند تھیں انہوں نے تو اپنی مشعلوں کے ساتھ تیل بھی لے لیا تھا مگر ہو بیوقوف تھیں انہوں نے مشعلیں تو لے لیں گر تیل اپنے ساتھ نہ لیا۔جب دولہا نے بہت دیر لگائی تو سب اونگھنے لگیں۔تب وہ جو بے احتیاط عورتیں تھیں انہوں نے معلوم کیا کہ ان کا تیل ختم ہو رہا ہے اور انہوں نے دوسری عورتوں سے کہا اپنے تیل میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بھی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا ہم تمہیں تیل نہیں دے سکتیں۔اگر دے دیں تو شاید ہمارا تیل بھی ختم ہو جائے۔تم بازار میں بھاؤ شاید تمہیں وہاں سے تیل مل جائے۔جب وہ مول لینے کے لئے بازار گئیں تو پیچھے سے دولہا آپہنچا اور وہ جو تیار تھیں اس کو ساتھ لے کر قلعہ میں چلی گئیں اور دروازہ بند کر دیا گیا۔کچھ دیر کے بعد وہ بے احتیاط عورتیں بھی آئیں اور دروازے کو کھٹکھٹا کر کہنے لگیں ہمارے لئے بھی دروازہ کھولا جائے۔ہم اندر آنا چاہتی ہیں۔مگر دولہا نے جواب دیا۔تم نے میرا انتظار نہ کیا۔تم نے پوری طرح احتیاط نہ بہ تی۔اس لئے اب صرف انہی کو حصہ ملے گا جو چوکس تھیں۔تمہارے لئے دروازہ نہیں کھولا جا سکتا۔یہ در حقیقت حضرت مسیح ناصری کی اپنی بعثت ثانیہ کے متعلق ایک پیشگوئی تھی جو انجیل میں پائی بھاتی ہے۔پس روبارمیں میں نے جو یہ کہا کہ یکیں وہ ہوں جس کے لئے 19 سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں “ اس سے لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ خدا تعالے میرے زمانہ میں یا میری تبلیغ سے یا اُن علوم کے ذریعہ سے جو اللہ تعالیٰ نے میری زبان اور مسلم سے ظاہر فرماتے ہیں ان قوموں کو جن کے لئے حضرت مسیح موعود عليه الصلواة واستسلام پر ایمان لانا مقدر ہے اور جو حضرت مسیح ناصری کی زبان میں کنواریاں قرار دی گئی ļ