تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 518
۴۹۹ کر دو۔اُس وقت میں خواب میں کہتا ہوں۔یہ تو بہت تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے۔مگر وہ قوم با وجود اس کے کہ ابھی ایک حصہ اس کا ایمان نہیں لایا ، بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ ہم ہرگز ان کو تمہارے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ہم لڑکر فنا ہو جائیں گے مگر تمہارے اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔تب میں کہتا ہوں دیکھو وہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی۔اس کے بعد میں پھر ان کو ہدائتیں دے کر اور بار بار توحید قبول کرنے پر زور دے کرہ اور اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کے آگے کسی اور مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہوں۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم میں سے اور لوگ بھی جلدی جلدی ایمان لانے والے ہیں بچنا نچہ اسی لئے میں اس شخص سے جسے میں نے اُس قوم میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے، کہتا ہوں۔جب میں واپس آؤں گا تو اسے عبدالشکور ! میں دیکھوں گا کہ تیری قوم مشرک چھوڑ چکی ہے ، موقد ہو چکی ہے اور اسلام کے تمام احکام پر کاربند ہو چکی ہے۔یہ دہ رویاء ہے جو میں نے جنوری از مطابق صلح ۱۳۲۳ بہش میں دیکھی اور جو غالباً پانچ اور چھ کی درمیانی شب بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات میں ظاہر کی گئی۔جب میری آنکھ کھلی تو میری نیند بالکل اُڑ گئی اور مجھے سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کیونکہ آنکھ کھلنے پر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا گویا میں اردو بالکل بھول چکا ہوں اور صرف عربی ہی جانتا ہوں بچنا نچہ کوئی گفتہ بھر تک میں اس رویا پر غور کرتا اور سوچتا رہا۔مگر میں نے دیکھا کہ میں عربی میں ہی غور کرتا تھا اور اُسی میں سوال و جواب میرے دل میں آتے تھے بے اس روبار میں تین پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک پیشگوئی تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا میں نے ہی کی ہے یا کسی سابق غیر معروف نہی نے اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کسی نبی کی پیشگوئی ہے اور آیا دنیا کے سامنے اس رنگ میں یہ پیشگوئی پیش بھی ہو چکی ہے یا نہیں؟ لیکن اس کے 194 له الفضل " میں سہو کتابت سے ۱۹۳۳ : چھپ گیا تھا ؟ سيدتنا المسلح الموعود نے فرمایا " مجھ پر کبھی جب یہ تازہ انکشاف ہوا۔اور اس کے بعد میری آنکھ کھٹی تو ایک دو منٹ تو اس رویاء پر ہی میں غور کرتا رہا۔اس کے بعد اللہ تعالٰی نے معا مجھے سمجھ دی کہ اتنا وقت میں نے نائق ضائع کر دیا۔اور میں نے فورا اللہ تعالے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ يَا رَبِّ أَنَا اوَّلُ الْمُؤْمِنين" والفضل در امان مارچ ۳ که بیش تر ۱۴ کالم ۱۴