تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 507
۴۹۰ کے لئے دعوی کرنا ضروری نہیں ہوتا۔تو پھر دعوے کی مجھے کیا ضرورت ہے ؟ رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے ریل کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی۔کیا ضروری ہے کہ ریل دعوی کرے۔۔۔امت مسلمہ میں مجتہدین کی جو فہرست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دکھانے کے بعد شائع ہوئی ہے، ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے دعوی کیا ہو ؟ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے سنا ہے کہ مجھے تو اورنگ نہیں بھی اپنے زمانہ کا مجلد نظر آتا ہے۔مگر کیا اس نے کوئی دعوی کیا ؟ معمر بن عبد العزیز کو مجدد کہا جاتا ہے کیا اُن کا کوئی دعوی ہے؟ پس غیر مامور کے لئے دھوئی ضروری نہیں۔دعوی صرف مامورین کے متعلق پیشگوئیوں میں ضروری ہے۔غیر مامور کے صرف کام کو دیکھنا چاہئیے۔اگر کام پورا ہوتا نظر آ جائے تو پھر اس کے دعوئی کی کیا ضرورت ہے۔اس صورت میں تو وہ انکار بھی کرتا جائے تو ہم کہیں گے کہ وہی اس پیشگوئی کا مصداق ہے پس میری طرف سے مصلح موعود ہونے کے دعوے کی کوئی ضرورت نہیں " سے •۔خدا تعالے کی طرف سے امر حضرت این ایس ا ا ا ا ا ا ل ا ن اپنے عہد خلافت کے ابتدای اٹھا میں انتیس برس تک مسلسل اور متواتہ اسی موقف پر قائم رہے۔ت خلیفہ ربیع الثانی پر انکشاف اس عرصہ میں بڑے بڑے انقلابات آتے اور پیشنگوئی مصلح موجود سے متعلق ایک ایک کر کے قریباً سب علامات آپ کے وجود مبارک میں نہایت خارق عادت طریق سے پوری ہوگئیں۔خدا تعالے کی اس فعلی شہادت کے مد نظر اگرچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے علی وجہ البصیرت اپنی اس رائے کا اظہار فرما دیا کہ سبز اشتہار میں جو (مصلح موعود) کی پیشگوئی ہے اس میں مجھے کوئی شبہ نہیں کہ وہ میرے ہی متعلق ہے بایں ہمہ مصلح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا یہانتک کہ آپ کی عمر مبارک پچپن سال کے لگ بھگ پہنچ گئی اور دیش کا سال شروع ہو گیا۔حضرت امیرالمومنین کا جسم مبارک مسلسل بیماریوں اور دماغی محنتوں کی وجہ سے نڈھال ہو چکا تھا اور صحت روز بروز گرتی جارہی تھی اور بار بار بیماریوں میں مبتلا ہو رہے تھے۔اسی حالت میں حضور نے سالانہ جلسہ پوش کو خطاب فرمایا۔پھر جلدی دی حضرت سیدہ ام طاہر کی تشویشناک علالت کے باعث لاہور تشریف لے آئے جہاں حقیر ه الفضل " ۲۳ رامان / مادری از پیش صفر، کالم ۲-۳- " الفضل " ۲۷ فروری ۱۹۳۷ئد صفحه ۶ +