تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 481 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 481

مشرقی افریقہ مشن : مکرم شیخ مبارک احمد صاحب مبلغ مشرقی افریقہ ایک عرصہ سے قرآن مجید کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کر رہے تھے جو امنی پر میش کو تعداد کے فضل سے مکمل ہو گیا ہے فلسطین :مشن فلسطین میں یہ قانون تھا کہ مسلمانوں کا نکاح عدالت شرعیہ کی اجازت کے بعد رجسٹرڈ نکاح خواں ہی پڑھے سکتا تھا۔برسوں سے احمدیوں کے نکاح بھی اسی طرح پڑھے جاتے تھے۔اس سال فتح اردسمبر ریش میں احمدی فریقین کی طرف سے سرکاری شرعی فارم پُر کر کے عدالت شرعیہ حیفا میں پیش کیا گیا۔مگر عدالت شرعیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک تم " مسلمان نہ بن جاؤ تمہارا نکاح نہیں پڑھا بھا سکتا۔اس پر چودھری محمد شریعت صاحب مبلغ بلاد عربیہ نے ڈسٹرکٹ کمشنر حیفا سے ملاقات اور المجلس الاسلامی الا علی سے خط و کتابت کی۔آخر آٹھ ماہ کی مراسلت اور ڈسٹرکٹ کمشنر سے دو تین ملاقاتوں کے بعد مسلم سپر بھی کونسل نے قاضی شرعی حیفا کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔اور یہ فیصلہ صادر کیا کہ احمد کی مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ ہیں۔اس لئے حسب دستور سابق احمدیوں کے نکات پڑھے جایا کریں۔چنانچہ وہ نکاح جس کا انعقاد آٹھ ماہ سے روکا ہوا تھا۔اس فیصلہ کے بعد قاضی شرعی حیفا کے حکم سے پڑھا گیا ہے اس سال فلسطین مشن کو ایک رنجیدہ واقعہ بھی پیش آیا۔اور وہ یہ کہ چودھری محمد شریف صاحب مبلغ فلسطین کی اہلیہ صاحبہ ۲۷ تبلیغ فروری ہمی کو کہا بیر میں وفات پاگئیں۔مرحومہ حضرت خلیفہ السیح الثانی کے ارشاد پر اپنے شوہر کے ہمراہ بلاد عربیہ میں خدمت دین کے لئے گئیں اور وہیں خدمت کرتے کرتے حیفا کے قبرستان میں سپرد خدا کر دی گئیں۔دیار غیر میں وفات پانے والی ہے پہلی ہاجرہ احمدی خاتون تھیں۔مرحومہ جب پہلے پہل اس ملک میں گئیں تو عربی زبان میں کلام نہ کر سکتی تھیں۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں مانگنا شروع کیں۔آخر چند ماہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مرحومہ کی زبان کھول دی اور وہ عربی بو لنے لگیں اور ڈیڑھ دو سال تک مدرسہ احمدیہ کیا بیریان بچیوں کی تین جماعتوں کو تعلیم دیتی ہیں۔رسالہ البشرنی کی تیاری اور ترسیل میں بھی خاص مدد کیا کرتی تھیہ ہے 4 المال الفضل ا له الفضل و وفا بولائی سے پیش صفحه له" الفضل " ٣٠ غار اکتوبر سال بیش له پیش سفر ۲ که " الفضل " ۲۱ شہادت / اپریل که بیش صفحه ۲ : موسا از مضمونی چودهری محمد شریعت صاحب صفحه سابق مبلغ ملا د عربیه و حال مبلغ کی بیا ) :