تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 479 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 479

اس وفد کے ذریعہ خدا کے فضل سے یو پی میں دس منٹے افراد نے بیعت کی۔یورپی کے رو سار کو سلسلہ ر کے حالات اور تحریک احمدیت اس جنگ میں پہنچائی گئی ہے کہ اس سے ایک خاص دلچسپی پیدا ہو گئی ہے عام طور پر ہمارے مخالفین نے جو غلط اور بے بنیاد باتیں ہماری جماعت کے متعلق پھیلا رکھی ہیں ایک حد تک خدا کے فضل سے ان کا بھی ازالہ ہو گیا ہے۔یو پی کے اہل علم طبقہ میں سلسلہ کا وقار قائم ہوگیا ہے مقامی جماعتوں میں بھی وقد نے بہت کچھ ورح عمل پیدا کی۔ڈیرہ دون میں وفد نے جو کام کیا ہے انشاء اللہ وقت آنے پر اس کے اظہار پر مسرت ہوگی۔اس مختصر تفصیل کے بعد بعض دلچسپ واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔بنارس میں ہمارا وفد جناب پنڈت مدن موتین صاحب مالوی سے ملنے گیا۔پنڈت صاحب ہندوستان میں جس شخصیت کے مالک ہیں اس کے لحاظ سے ہلدا وفد کوئی ظاہری توجہ کے اسباب اپنے اندر نہیں رکھتا تھا۔لیکن محض خدا کے فضل سے ہمارے وفد کے علمی معیار نے موصوف کو متحیر کر دیا۔ارکان وفد کے سمیر صاحب نے سلسلہ کے پورے حالات سُنائے اور حضرت کوشن قادیانی کی آمد ثانی کے متعلق ہندو کتب سے سنسکرت میں جو حوالے پڑھ کر سنائے اُس سے موت کو تعجب ہوا۔اور اُن کی سنسکرت دانی نے ان پر بہت اثر کیا۔وہ وفد سے بڑی محبت اور عقیدت سے پیش آئے اور سلسلہ کی کتب پڑھنے کا وعدہ فرمایا۔اجودھیا میں حضرت کوشن کی آمد کی خبر سناتے ہوئے ہمارے دوست اسی مضمون کا ایک رسالہ ہندی میں تقسیم کرتے رہے کہ ایک ہندو خاتون جن کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی تھا۔جب ایک تبلیغی رسالہ اس خاتون کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس بچہ نے اپنی ماں کے ہاتھ سے وہ رسالہ لے لیا۔اور سہرارت پر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا نام پڑھے کہ اپنی ماں سے کہنے لگا کہ " ماتا یہ تو کسی مسلمان کا نام ہے۔یہ اوتار کیسے ہو سکتا ہے ؟ کچھ کے سوال کے جواب میں اس ہندو دیوی نے بڑی متانت سے کہا کہ " بیٹا اوتار کے لئے ہند و سلمان کی کوئی قید نہیں " اس حیرت انگیز جواب سے قلب کو جو سرور حاصل ہوا وہ ظاہر ہے " سے امیری امی ایا ایک کیاری میں ایمان اداری بیرونی مشنوں کی تبلیغی سرگرمیاں سی بیش کردن بینی اہمیت کہتاہے کہ کہ اس دور آنہیں کیونکہ له الفضل " يكم اجرت مٹی پر مش سفر ۴ ،