تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 475 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 475

تم و نهم خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔مگر جب میر عباس علی صاحب کو ٹھوکر لگی تو مرحوم کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئ اور اپنےقابل تنظیم چا اور خسر کی پروانہ کر " ہوئ سچائی کاست و یا حصیر خان نواب محمد علی خانصاحب ریکیں مالیر کوٹلہ کے محاسب اور مصاحب کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔بڑے عبادت گزار تھے جب سے ہوش سنبھالا، نماز روزه تو در کنار تنی جگہ بہت کم قضاء کی ایمانداری ، وفاداری اور صبر کی خوبیاں خاص طور پر نمایاں تھیں جن کی وجہ سے مرحوم مخالفین کی نظروں میں بھی عزیز تھے۔دینی امور میں نہایت صفائی ، صدق اور جوش سے کام کرتے تھے۔لدھیانہ کی ایک خانقاہ کے ساتھ کافی زمین تھی اور آپ بھی اس کے وارثوں اور سجادہ نشینوں میں سے تھے مگر آپ کبھی وہاں جا کر کھڑے بھی نہ ہوتے یہانتک کہ جو لوگ وہاں جاروب کش تھے وہ مالک بن بیٹھے پھر بھی کبھی خیال نہ کیا۔مریدوں سے فرمایا کرتے کہ ہم تو اصلی سرکار کے خود مرید ہیں۔رشتہ داروں نے ۱۹۲۶ میں دعوی دخلیا بی اُن کی طرف سے کر دیا اور عدالت نے بھی ان کا حق ملکیت تسلیم کر لیا۔لیکن مخالف نے ایک سوال یہ اُٹھا دیا کہ یہ تو مرزائی ہیں اور خانقاہوں کو مانتے نہیں۔انہوں نے سوائے بیحرمتی کے وہاں کیا کرتا ہے جس پر جج نے آپ سے سوال کیا کہ کیا آپ مرزائی ہیں؟ اس وقت جو لوگ عدالت میں موجود تھے بتاتے ہیں کہ بوش کی وجہ سے مرحوم کی آواز بلند ہو گئی۔کھڑے ہوکر فرمایا کہ ” ہاں میں احمدی ہوں“ چنانچہ فیصلہ آپ کے عضلات ہو گیا۔آپ کو دینی کتب کا بیحد شوق تھا۔بہت سی پرانی کتب و رسالہ جات آپ نے جمع کئے تھے بجوانی میں اُن کا مطالعہ آپ پر ابر جاری رکھتے۔چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔تبلیغ کا شوق اتنا کہ لوگوں میں مشہور تھا کہ میر صاحب تو چھوڑتے نہیں۔غیرت اور محبت اتنی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، مغلفاء اور احمدیت کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہ کر سکتے۔اخیر میں نظر کمزور ہو گئی تو عینک کے استعمال کے باوجود لکھ پڑھ نہ سکتے۔اس لئے بیٹھے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی نظمیں پڑھتے اور تلاوت قرآن مجید کرتے رہتے۔بڑے مستجاب الدعوات تھے۔حتی کہ غیر احمدی دعائیں کرواتے۔صاحب کشف تھے۔کثرت سے ایسی خواہیں دیکھتے جو اپنے وقت پر پوری ہوتیں صحت شروع ہی سے بہت اچھی تھی۔اور آخر وقت تک ہوش و حواس صحیح سالم رہے ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کام کرتے۔بازار سے سود ا سلعت خود لاتے۔ایک ماہ پیشتر اپنے بڑے لڑکے سید محمد عبد الرحیم صاحب کے ہمراہ قادیان تشریف لائے اور حضرت خلیفہ السیح الثانی سے ملاقات کر کے ہشاش بشاش واپس ہوئے معمولی بخار ہوا۔جو تیرے دن اتر گیا مگر کمزوری غالب آگئی۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ریٹائرڈ ڈی۔ایم۔او برڑ نے علاج میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔آخری بلاوا آن پہنچا۔مگر اس وقت بھی نہایت اطمینان سے لیٹے تھے۔کوئی گھبراہٹ یا اضطر اپنے تھا۔i