تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 473 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 473

۴۶۲ تھا۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رض کے ارشاد پر خود بھی سال بھر میں نئے احمدی بنانے کی تحریک میں حصہ لیتے اور دوسروں سے بھی وعدے لیتے یہ آپ نے ضلع جالندھر اور ہوشیار پور میں مبلغین احمدیت کے ساتھ کئی بار طویل دورے کئے بائر میں جن مجاہدوں نے علاقہ ارتداد ملکانہ میں تبلیغی جہاد کیا۔اُن میں آپ بھی شامل تھے ۱۹۳۵ء میں علاقہ مکیریاں کی تبلیغی مہم میں شرکت کی اور ایک ایک ماہ وقف کر کے پہلے سال موضع عمرا پور میں اور دوسرے سال خاص میریاں میں بطور امیر المجاہدین کام کیا جس پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خوشنودی کے سرٹیفکیٹ عطا فرمائے۔ابتدا میں کم یام اور کو رہا کے احمدی آپ کے مکان کی بیٹھک میں نمازیں پڑھتے تھے۔سماء میں حضرت حاجی صاحب نے نے ایک فراغ اور عمدہ مسجد تعمیر کرائی جس کے اکثر اخراجات آپ نے برداشت کئے تعمیر مسجد کے بعد اگلے سال آپ نے ۳ جون شالہ سے ایک پرائمری سکول بھاری فرمایا اور ابتداء میں اس کا پورا خریچ اپنی گرہ سے ادا کیا۔بعد کو اگرچہ حکومت اور مرکز سلسلہ کی طرف سے بھی اعداد ملنے لگی۔مگر جب بھی گرانٹ بند ہو جاتی۔آپ مدرسہ کی مالی ضروریات از خود پوری کر دیتے۔اس مدرسہ کے نگران اور مینجر کے فرائض ہمیشہ خود انجام دیتے اور بعض اوقات طلبہ کو خود بھی پڑھاتے تھے سکے حضرت حاجی صاحب کی دیانتداری اور راست بازی ہر دوست دشمن کو مسلم تھی۔ایک شخص رام لال پر بہت ساکتی رہوں نے پچاس گھماؤں اراضی آپ کے نام بغیر اطلاع دیئے کرا دی۔عدالتیں آپ کو ثالث بناتیں اور کبھی کسی فریق کو اُن کے فیصلے پر اعتراض نہ ہوتا تھا۔کہتے ہیں ایک بار آپ کے گاؤں میں ایک مجسٹریٹ نے موقع دیکھتے وقت مدعی فریق سے کہا کہ اگر اس جگہ کوئی سچ بولنے والا ہو تو پیش کرو۔اس نے حضرت حاجی صاحب کا نام نے مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر امرتسر رحال کینیڈا) کا مفصل مضمون مطبوعۃ الفضل " مورد ار و فار جولائی یہ مش صفحه ۴ + لے کر یام سے دو اڑھائی میل کے فاصلہ پیسا ایک گاؤں جو مولانا ابوالعطاء صاحب ۱۳۲۲ ۳۲ فاضل کا وطن مالوف ہے اور جہاں آپ کے والد ما بعد حضرت منشی امام الدین صاحب قیام فرما تھے اور جمعہ کی نماز کے لئے ہمیشہ بالالتزام کریام تشریف لے جایا کرتے تھے اور جب نہ پہنچ سکتے تو حضرت حاجی صاحب اور کریام کے دوسرے احمدی سمجھتے کہ آپ بیمار ہو گئے ہوں گے حضرت منشی صاحب نے شاہ کے قریب صحابہ کے زمرہ میں شامل ہوئے۔اپنے گاؤں میں اکیلے احمدی تھے۔قبول احمدیت پر آپ کے والد اور کر یہا کے دوسرے لوگوں کی طرف سے سخت تکالیف دی گئیں اور ہر طرح ظلم وستم کا نشا بنائے گئے مگر آپ ثابت قدم رہے تبلیغ کا از حد شوق رکھتے تھے۔استنقاد کی مرض سے بیمار ہوئے۔علاج کیلئے قادیان آگئے مگر جانبر نہ ہو سکے۔سمیر شاہ کو انتقال کیا اور بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے ( الفضل ۱۳ دسمبر ۱۹۲۷ و صحت و الفضل بر جنوری ۱۹۲۸ صفحه ۱۰ کالم ۳ مضمون حضرت حاجی غلام احمد صاحب : سه اصحاب احمد جلد دہم صفحه ۶ون سے ایضا صفحہ ۱۲۷ :