تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 28 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 28

۲۸ وضاحت فرمائی۔اس کا یہ اثر ہوا کہ آپ خدا کے فضل و کرم سے قادیان تشریف لے آئے اور اس مبارک جلسہ پر خلافت کے تازہ انوار اور اس کی زندہ برکات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور ۲۲ جنوری شاہ کو دوبارہ خلافت سے وابستہ ہو گئے اور تبلیغ شال پیش (ضروری نامہ) کو ” میری بیعت “ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔جس میں اپنی بیعت خلافت کے مختصر وجوہ لکھے۔آپ کا یہ مضمون نے تبلیغ ۱۳ میشد ، ضروری نہ کو اخبار الفضل میں شائع ہوا ہو آپ نے اپنے سارے بیٹوں اور سرکردہ غیر مبائعین کے نام بھیجوا دیا بجیت نامہ کی اشاعت پر مولوی محمد علی صاحب نے سخت تنقید کی اور پیغام صلح میں مضامین لکھے جس پر حضرت مولوی غلام حسن خاں صاحب نے دوبارہ قلم اُٹھایا اور ایک اور مضمون لکھا جس میں اپنی بیعت کے اہم وجوہ پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی اور لکھا کہ:۔میں نے جو حضرت خلیفہ مسیح ثانی کی بیعت اختیار کی ہے۔تو جیسا کہ ہمیں اپنے سابقہ مضمون میں تشریح کر چکا ہوں۔وہ تین وجوہات پر مبنی ہے :- اول یہ کہ حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صدر انجمین کا انتظام وقتی اور عارضی تھا جو حضرت مسیح موعود نے اُس وقت کے حالات کے ماتحت اپنی رائے سے قائم کیا تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے اس انتظام کو مٹاکر اس کی جگہ اپنے پسند کردہ نظام خلافت کو قائم کر دیا اور ایسا تصرف فرمایا کہ خود ارکان صدر انجین کے ہاتھ سے ہی یہ تبدیلی عمل میں آئی جس سے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا احترام بھی قائم رہا اور خدا کی مشیت بھی پوری ہو گئی۔اس کی تائید میں میں اپنے سابقہ مضمون میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے دو واضح الہامات جو حقیقۃ الوحی (صفحہ ۱۰۵ طبع دوم) میں بالکل پاس پاس درج ہیں ، بیان کر چکا ہوں۔جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انجمن کے نظام کو میٹا کر اس کی جگہ خلافت کے نظام کو قائم کر دیا۔دوسری دلیل جو مجھے قادیان میں آکر نظر آئی، وہ اس تائید اور نصرت انہی سے تعلق رکھتی ہے جو حضر خلیفہ اسیح ثانی کی قیادت میں مرکزی جماعت کو حاصل ہوئی ہے اور ہو رہی ہے۔اور چونکہ مذہبی اختلافا میں سب سے بڑی دلیل خدا تعالے کی عملی اور فعلی شہادت ہوا کرتی ہے ، اس لئے میں نے اسی شہارات کو قبول کر کے بیعت اختیار کی۔مولوی محمد علی صاحب کا یہ فرمانا کہ ان کی انجین کو قرآن مجید کا ترجمہ چھاپنے اور بعض اور کتب کی اشاعت کی توفیق ملی ہے ، میری اس دلیل کو باطل نہیں کرتا۔محض بعض کتب کی