تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 465 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 465

۳۵۴ " ذریعہ کیا ہے۔مگر اس حصہ میں جو خدمت قرآن میں اُن کا ہے ہم بھی ان کی شاگردی سے دریغ نہ کرتے۔پس ہمارے نوجوانوں کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہئیے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی عزت و احترام میں فرق نہ لانا چاہیے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جو کچھ کہیں اُسے مان لیں ہیں خود بھی ہر بات کو نہیں مانتا۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ ناقابل اعتبار ہیں۔اگر کوئی بات غلط ہے تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ممکن ہے اس وقت راوی کی توجہ کسی اور طرف ہو ممکن ہے۔اس نے ساری بات سنی ہی نہ ہو۔پھر یہ بھی ممکن ہے ، ساری بات سنی تو ہو مگر غلط سمجھی ہو۔مگر اس کی وجہ سے اسے ناقابل اعتبار نہیں کہا جا سکتا۔جن لوگوں کو انبیاء کی صحبت حاصل ہوتی ہے اُن سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔مگر وہ اتفاقی ہوتی ہیں۔اور غلطی کے امکان کے باوجود یہ کام وہی لوگ کو سکتے ہیں۔جس نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو دیکھا ہی نہیں۔اُسے اگر کہا جائے کہ آپ کے زمانہ کی تاریخ لکھو تو وہ کیا لکھ سکتا ہے۔وہ بھی لازماً ان لوگوں کے پاس ہی جانے پر مجبور ہوگا۔پس کسی بات کی وجہ سے انہیں غیر مستند اور ناقابل اعتبارہ قرار دینا درست نہیں۔غلطی کا ہونا اور بات ہے اور غلط کار ہوتا اور بات ہے۔ہم کسی بڑے سے بڑے موقع کے متعلق بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ گھر کی بات ہے مگر اس کی وجہ سے اُسے کا فر نہیں کہ سکتے۔اسی طرح کسی بات کے متعلق ہم کہ سکتے ہیں کہ واقعات اس کی تصدیق نہیں کرتے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ مصنف ناقابل اعتبار اور غیر مستند ہے" قیام افتار کمیٹی کا قیام اس سال کے آخرمیں فقہ اسلام کے مختلف مائل پر غور و فکر کرنے کے لئے قطارات تعلیم و تربیت کی درخواست اور حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رض کے ارشاد پر افتار کمیٹی " کے نام سے ایک نیا ادارہ معرض وجود میں آیا جس کے ابتداء میں حسب ذیل ممبران حضور کے حکم سے نامزد کئے گئے :۔+1 حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب (مفتی سلسله) -۲- حضرت میر محمد اسحاق صاحب ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدید ۳۔مولانا ابو العطاء صاحب بمالند هری شه اح "الفضل " ۲۴ ظهور / اگست ایش صفحه ۳ تا ۱۵ + " الفضل فتح دسمبر ۱۳۳۳ ش صفحه ۲ کالم ۲ ۱ راسم مهم ۱۹ و