تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 456 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 456

۵ م م اس ارشاد کے ساتھ ہی حضور نے بحث و مباحثہ کو پوری قوت سے کچل ڈالنے کی بھی ہدایت کی چنانچہ فرمایا۔یاد رکھو تبلیغ وہی ہے جو حقیقی معنوں میں تبلیغ ہو بحث مباحثہ کا نام تبلیغ نہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح تم اس سانپ کے مارنے کی فکر میں لگ جاتے ہو۔جو تمہارے گھر میں نکلے۔اسی طرح اگر تمہارے دلوں میں نور ایمان پا یا جاتا ہے تو تم بحث مباحثہ کو اسی طرح کچل دو یہیں طرح شنا کا سر کھیلا جاتا ہے۔جب تک تم میں بحث و مباحثہ رہے گا۔اس وقت تک تمہاری تبلیغ بالکل محدود رہے گی اور تمہارا میشن ناکام رہے گا۔اگر تم اپنی تبلیغ کو وسیع کرنا چاہتے ہو۔اگر تم اپنے مشن میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تم بحث مباحثہ کو ترک کر دور جس دن تبلیغ کے لئے صحیح معنوں میں نکلو گے اور اپنے دلوں میں لوگوں کے لئے درد اور سوز بھر کر اُن تک پہنچو گے وہی دن تمہاری کامیابی کا دن ہوگا اور اسی دن تم صحیح معنوں میں تبلیغ کرنے والے قرار پا سکو گے۔تمہارا کام یہ ہے کہ تمہارے سامنے خدا تعالیٰ نے جو راستہ کھو لا ہے اس پر میل پڑو اور اپنے دائیں بائیں مت دیکھو کہ مومن تجب ایک صحیح راستہ پر پل پڑتا ہے تو اپنے ایمان اور اخلاص کے لحاظ سے وہ کسی اور طرف دیکھنے سے اندھا ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا کام یہی ہے کہ میں اس راستہ پر چلتا چلا جاؤں اور درمیان میں آنے والی کسی روک کی پروا نہ کروں۔وہ بہادر اور نڈر ہو کر سچائی دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور بحث مباحثہ کو ترک کر دیتا ہے میرے پاس ایک دفعہ ایک انگریز آیا اور مجھے کہنے لگا۔آپ کس طرح کہتے ہیں کہ اسلام سچا مذہب ہے۔میں نے اُسے اسلام کی سچائی کے متعلق کئی دلائل بتائے۔مگر ہر دلیل جب میں پیش کرتا وہ اس کے مقابلہ میں انجیل کی کوئی آیت پڑھ دیتا اور کہتا۔آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔انجیل میں تو یہ لکھا ہے۔میں نے اُسے کئی دلائل دیئے۔مگر جب بھی کوئی دلیل دوں وہ ایسے رحم کے ساتھ کہ گویا میں پاگل ہو گیا ہوں ، میری طرف دیکھتا تھا اور کہتا تھا۔آپ کو یہ غلطی لگی ہے انجیل میں تو یہ لکھا ہے۔میں نے اس وقت اپنے دل میں کہا کہ گو یہ ایک غلط راستہ پر ہی ہے مگر اپنے غلط مذہب سے ایسا اخلاص رکھتا ہے جو قابل رشک ہے۔اگر وہ عیسائی ایک منسوخ اور غلط کتاب پر اتنا یقین رکھتا تھا کہ اس کے مقابلہ میں وہ کسی دلیل کو سُننے کے لئے تیار نہیں تھا۔تو کیا ہم سچی کتاب اپنے پاس رکھتے ہوئے یہ پسند کر سکتے ہیں کہ ہم عقلی بحثوں میں پڑے ہیں اور اس