تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 419
۰۸ وهر اچھی طرح یاد رکھو کہ پردہ اسلام کا اہم ترین محکم ہے جو شخص پردہ کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اسلام کی بنک کا ارتکاب کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مغربیت کی رو دلوں میں اباحت پیدا کر رہی ہے اور بعضی احمدی بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اب پر وہ دنیا میں قائم رہتا نظر نہیں آتا۔مگر میں اُن سے کہتا ہوں تمہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود بھی دنیا میں قائم ہوتا نظر نہیں آتا تھا پھر آج کیا یہ نظارہ تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ دنیا کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پھیل چکا ہے۔اسی طرح اب جو لوگ کہتے ہیں کہ پردہ قائم رہتا نظر نہیں آتا۔میں اُن سے کہتا ہوں کہ تمہیں تو پردہ قائم ہوتا نظر نہیں آتا۔اگر دنیا ہمارے وعظ ونصیحت سے مقاشہ ہو کہ بے پردگی سے باز نہیں آئے گی تو کیا تم سمجھتے ہو اس زمین کو پیکر دینا خدا کے اختیار سے باہر ہے۔یہ بگڑی ہوئی دُنیا ہو آج نہیں دکھائی دے رہی ہے خدا اُسے ایک ایسا چکر دے گا کہ یہ مجبور ہو گی اس بات پر کہ اسلام کے احکام پر عمل کرے اور ہر قسم کی غلط آزادی کو خیر باد کہ دے۔اس زمانہ میں اللہ تعلی کی طرف سے بڑے بڑے اہم تغیرات ، مقدر ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدمی رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کافر اٹھے گا۔صبح کو کافر ہو گا اور رات اس پر ایسی حالت میں آئے گی جبکہ وہ مومن ہوگا۔اس میں اسی امر کی تجو انسانی قیاسات سے بالکل بالا ہوں سکہ ایک شخص مومن ہونے کی حالت میں سوئے گا اور وہ یہ بن کر اُٹھے گا اور ایک دوسرا شخص دہریہ ہونے کی حالت میں سبیح کرے گا اور شام کو وہ محمد رسول الہ صل اللہ علیہ وسلم کے حلقہ غلامی میں آچکا ہو گا۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خدا کے حکم کے مطابق پھلتے پھلے جائیں اور اپنی اطاعت اور وفادار کی کا نمونہ دکھا کر تھا اتعالیٰ کے پیچھے سپاہی نہیں۔اگر ایک فوج کو حکم دیا سہاتا ہے کہ وہ سمندرمیں اپنے گھوڑے ڈال دے تو سپاہیوں کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ اعتراض کریں اور کہیں کہ ہم سمندر میں اپنے گھوڑے کیوں ڈالیں۔ہماری بھانوں کا اس میں خطرہ ہے۔اُن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بے دھنک سمندر میں کود جائیں اور اپنے افسر کے حکم کو بجالائیں۔اسی طرح ہمیں اگر روھانی فوج میں داخل ہونے کے بعد بعض نا قابل عبور سمندر نظر آتے ہیں یا وہ گڑھے نظر آتے ہیں جن میں گر گئے ہماری پسلیاں چور چور ہو سکتی ہیں اور اللہ تعالے کا حکم یہ ہے کہ ہم سمندر کو عبور کر جائیں اور گڑھوں پر سے چھلانگ لگا کر گذر بائیں۔تو اگر خدا کا منشار یہ ہوگا کہ وہ ہمیں زندہ رکھے اور ہمارے ذریعہ سے دنیا کے احیاء کے سامان پیدا فرمائے تو پیشتر اس کے کہ ہم ان گڑھوں میں گریں خدا تعالیٰ کے فرشتے بنیادی طریقه اشارہ کیا گیا ایسے ایسے انقلابیات پیدا ہوں گے۔