تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 418
۴۰۷ ملک عبد الرحمن صاحب خادم کی اور ان پیاری ہی میں کان جماعت حمدیہ کے لئے ایک نہایت رامان / ش وحشت ناک خبر لے کر آیا اور وہ یہ کہ جماعت کے ممتاز مناظر اور عالم دین گرفتاری اور رہائی ملک عبد الرحمن صاحب خادم بی۔اے ایل ایل بی ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ (زیر دفعہ ۱۲۹) کے تحت گرفتار کئے گئے۔یہ ظالمانہ کارروائی گجرات کے ہندو ڈپٹی کمشنر مسٹر گریوال کے خلاف شائع شدہ ایک نظم کی بناء پر کی گئی بھالانکہ جیسا کہ ملک صاحب نے مطلقا بیان دیا کہ ان کا اس نظم کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں تھا حتی کہ علم بھی نہیں تھا کہ یہ کس نے لکھی ہے ہے جماعت احمدیہ کے سبھی حلقے اس نظر بندی پر تڑپ اُٹھے اور انہوں نے ملک صاحب کے محترم والدین اور دیگر عزیزوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور نہایت درد دل سے اُن کی باعزت بریت کے لئے دعائیں کیں یہ احمد پر لیس نے اس صریح ھاندلی پر جو مخالفین کی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں مچائی گئی تھی ، زبردست احتجاج کیا۔اور مرکز سلسلہ نے حکومت کی مشینری کو اس ظلم کی طرت بار بار توجہ دلائی نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے ملک صاحب کو دو ہفتہ کے بعد رہا کر دیا گے پرده شہادر مخور تعلیم کی مانعت اور اسامی پر وہ اس سال کی مجلس مشاعت (منطقه ۲۲۰۳۳-۱۸ برتر کی ترویج کے متعلق پیشوکت پیشگوئی سنت نیند ایسی نشانی نے فیصلہ فرما کہ حضرت خلیفہ المسیح ایمیل میش کے دوران مخلوط تعلیم کا معاملہ پیش ہوا۔تو و مخلوط تعلیم کسی صورت میں بھی درست نہیں سبھی جاسکتی نظارت تعلیم و تربیت کو اس کے انسداوری متعلق جو انہیں ایک عام اعلان کرنا چاہیئے تا کہ ہر شخص کو علم ہو جائے کہ مرکز اس بارہ میں کیا رائے رکھتا ہے۔ان کے بعد جو لوگ اس بزم کے مرتکب ہوں ان سے جواب طلبی کی بجائے اور انہیں اصلاح کی مرات توجہ دلائی جائے۔اگر اس تنبیہ کے باوجود ان کی اصلاح نہ ہو تو انہیں سزا دی بجائے جس کی عد اخراج از جماعت تک ہو سکتی ہے۔اس فیصلہ کا اعلان کرنے کے بعد حضور نے اسلامی پردہ کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور مستقبل میں برپا ہونے والے اسلامی انقلاب کی نسبت پیشگوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۲۲ اد" الأفضل" ، شہادت / اپریل س ش صفحہ ا کالم ۲ : سے " الفصل ۳ شہادت اپریل ریش صحرا کالم ۱۴۰۳ صفحه : کالم ا ا سه صفحه سے رپورٹ عباس مشاورت سه مش صفحه ۴۶ * ·16 Sp "