تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 356
۲۴۵ حضرت امیرالمومنین خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جہاں کرایا میں اللہ کو کراہی کیلئے کام کر کی جماعت کے دوستوں کو یونی بینین کے لئے دعاکی مبلغین تحریک فرمائی وہاں خود میتوں کو بار شاد فرمایا کہ وہ ہمیشہ ذکر الہی میں مصروف رہیں تا اُن کی تبلیغ میں جذب و اثر پیدا ہو۔چنانچہ فرمایا : - حقیقت یہی ہے کہ اسی قوم کے دن زندہ ہوتے ہیں جس کی راتیں زندہ ہوں جو لوگ ذکر الہی کی قدر و قیمت کو نہیں سمجھتے اُن کا مذہب کے ساتھ وابستگی کا دعوی محض ایک رسمی چیز ہے۔کئی نوجوان ایسے ہوتے ہیں جو تبلیغ بڑے جوش سے کرتے ہیں چندوں میں بھی شوق سے حصہ لیتے ہیں گر ذکر الہی کے لئے مساجد میں بیٹھنا اور اخلاق کی درستی کے لئے خاموش بیٹھنا ان پر گراں ہوتا ہے اور جو وقت اس طرح گذرے اُسے وہ سمجھتے ہیں کہ صنائع گیا ، اُسے تبلیغ پر صرف کرنا چاہیے تھا۔ایسے لوگ اِس بات کو بھول جاتے ہیں کہ تلوار اور سامان جنگ کے بغیر لڑائی نہیں جیتی جا سکتی جس طرح لڑائی کے لئے اسلحہ اور سامان جنگ کی ضرورت ہے اسی طرح تبلیغ بھی بغیر سامانوں کے نہیں ہو سکتی۔تبلیغ کے میدان جنگ کے لئے ذکر الہی آرسنل اور فیکٹری ہے اور جو مبلغ ذکر الہی نہیں کرتا وہ گویا ایک ایسا سپاہی ہے جس کے پاس تلوار نیزہ یا کوئی اور اسلحہ نہیں۔ایسا مبلغ جس چیز کو تلوار یا اپنا ہتھیار سمجھتا ہے وہ کرم خوردہ لکڑی کی کوئی چیز ہے جو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔آخر یہ کیا بات ہے کہ وہی دلیل محمد مصطفی اسلے اللہ علیہ وسلم دیتے تھے اور دل پر اثر کرتی تھی۔لیکن وہی دلیل در سرا پیش کرتا ہے لیکن سننے والا ہنس کر گذر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا بیہودہ باتیں کر رہا ہے۔یہ فرق کیوں ہے ؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ اُس شخص کے پاس جو ہتھیار ہے وہ ٹکڑی کا کرم خوردہ ہتھیار ہے گر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوہے کی ایسی تیز تلوار تھی جو ذکر الہی کے کارخانے سے تازہ ہی بن کر نکلی تھی۔کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں میں جو اثر تھا وہ دوسروں کی باتوں میں نہیں۔ہمارے مبلغوں کی تقریروں میں وہ اثر نہیں اس کی وجہ یہی کہ جس مبلغ کی تقریرہ کو ذکر الہی نے تلوار نہیں بنایا ہوتا۔اس کے ہاتھ میں لکڑی کا کرم خوردہ ہتھیار ہے جسے گھی لگا ہوا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے