تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 354
سلام سلام سلام انہوں نے بڑی عمر میں شادی کی اور دو تین سال بعد ہی انہیں تبلیغ کے لئے بھیج دیا گیا۔اُن کے ایک بچے نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا اور باپ نہیں جانتا کہ میرا بچہ کیسا ہے۔سوائے اس کے کہ تصویروں سے، انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا ہو۔وہ بھی کئی سال سے باہر ہیں اور اب تو لڑائی کی وجہ سے اُن کا آنا اور بھی مشکل ہے۔قائم مقام ہم بھی نہیں سکتے اور خود وہ آنہیں سکتے کیونکہ راستے محل کش ہیں۔اس لئے ہم نہیں کر سکتے کہ وہ کب واپس آئیں گے لڑائی ختم ہو اور حالات اختلال پر آئیں تو اس کے بعد اُن کا آنا ممکن ہے اور نہ معلوم اس میں ابھی اور کتنے سال لگ جائیں۔ان لوگوں کی ان قربانیوں کا کم سے کم بدلہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد دعائیں کرے کہ اللہ تعالے ان کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور اُن کے اعزہ اور اقرار پر بھی رحم فرمائے۔میں تو سمجھتا ہوں جو احمدی ان مبلغین کو اپنی دعاؤں میں یاد نہیں رکھتا اس کے ایمان میں ضرور کوئی نقص ہے۔اور مجھے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ایمان میں خلل واقع ہو چکا ہے اسی طرح اور بھی کئی مبالغ ہیں جن کی قربانی گواس حد تک نہیں مگر پھر بھی وہ سالہا سال سے اپنے اعزہ اور رشتہ داروں سے دُور ہیں اور قسم قسم کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ان مستعین میں سے مغربی افریقہ کے دو مبلغ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ایک مولوی نذیر احمد صاحب ز این بابو فقیر علی صاحب) اور دوسرے مولوی محمد صدیق صاحب۔یہ لوگ ایسے علاقوں میں ہیں جہاں سواریاں مشکل سے ملتی ہیں۔کھانے پینے کی چیزیں بھی آسانی سے میسر نہیں آئیں بستر میں کبھی ستو پھانک کر گزارہ کر لیتے ہیں اور کبھی کوئی پھل کھا لیتے ہیں۔پھر انہیں سینکڑوں میں کے دورے کرنے پڑتے ہیں اور ان دوروں کا اکثر حصہ وہ پیدل طے کرتے ہیں۔یہ قربانیاں ہیں جو سالہا سال سے یہ لوگ کر رہے ہیں۔چیفیت اور رؤساء اُن کا مقابلہ کرتے ہیں بعض دفعہ دگو ہمیشہ نہیں ، گورنمنٹ بھی اُن کے راستہ میں روڑے اٹکاتی ہے۔عام پالک اور مولوی بھی مقابلہ کرتے رہتے ہیں۔لیکن دین تمام رنگوں کے باوجود وہ مختلف علاقوں میں جماعتیں قائم کرتے اور خانہ بدوشوں کی طرح دین کی اشاعت کے لئے پھرتے رہتے ہیں۔یہ لوگ ایسے نہیں کہ اب سات ان کی قربانیوں کے واقعات کو تسلیم کرنے سے انکار کر سکتے نہیں فرمانیوں کے واقعات کو تسلیم کرنے کی بجائے ان کے احسانات کو تسلیم کرنے کے الفاظ استعمال کرنے لگا تھا گر پھرتی نے