تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 353 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 353

۳۴۲ غلام حسین صاحب ، ان کے علاوہ کچھ لو کل مبلغ ہیں جو پانچ سات ہیں جن میں سے بعض کو یہاں سے مقرر کیا گیا تھا اور بعض کو وہاں کی جماعتوں نے اپنا مبلغ بنالیا تھا۔ان تمام مبلغین کے متعلق نہ ہمیں کوئی خبر ہے نہ اطلاع ، اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سب کو اپنی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کیونکہ وہ ہماری طرف سے ان ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے گئے تھے۔اللہ تعالٰی نے بعض باتوں کو فرض کفایہ قرار دیا ہے اور تبلیغ بھی انہی میں سے ایک ہے۔یعنی اگر قوم میں کوئی شخص بھی تبلیغ نہ کرے تو ساری قوم گناہگار اور اللہ تعالے کے عذاب کی مورد ہوگی۔لیکن اگر کچھ لوگ تبلیغ کے لئے کھڑے ہو جائیں تو باقی قوم گنہگار نہیں ہوگی۔پس اگر یہ لوگ تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں نہ جاتے تو احمدیہ جماعت اللہ تعالٰی کی نگاہ میں گناہگار ٹھہرتی۔اور وہ اس کے عذاب کی مور بن جاتی کیونکہ وہ کہتا کہ اس قوم نے تبلیغ کو بالکل ترک کر دیا ہے جیسے مسلمانوں کی حالت ہے کہ جب انہوں نے فریضہ تبلیغ کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیا اور اُن میں ایسے لوگ نہ رہے جو اپنے وطنوں کو چھوڑ کر اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اور اپنے آرام دانش کے سامانوں کو چھوڑ کر غیرممالک میں جائیں اور لوگوں کو داخل اسلام کریں تو وہ مورد عذاب بن گئے۔پس جن لوگوں کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے ہماری جماعت کو اپنی خاص رحمتوں کا مورد بنایا ہوا ہے، یقیناً اُن کا حق ہے کہ ہم انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔اُن کے لئے دعا کرنا اپنی ذاتی دعائیں پر مقدم سمجھیں اور متواتر الحاج اور عاجزی سے اُن کی صحت اور سلامتی کے لئے دعائیں کریں۔اسی طرح اور بہت سے مبلغ ہیں جن کی قربانیوں کا مجھے اندازہ ہماری جماعت کے دوست نہیں لگا سکتے۔بالخصوص دو مبلغ تو ایسے ہیں جو شادی کے بہت تھوڑا عرصہ بعد ہی تبلیغ کے لئے چلے گئے اور اب تک باہر ہیں۔اُن میں سے ایک دوست تو نو سال سے تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں حکیم فضل الرحمن اُن کا نام ہے۔انہوں نے شادی کی اور شادی کے تھوڑے عرصہ کے بعد ہی انہیں تبلیغ کے لئے بھیجوا دیا گیا۔وہ ایک نوجوان اور چھوٹی عمر کی ہیوی چھوڑ کر گئے تھے مگر اب وہ آئیں گے تو انہیں ادھیڑ عمر کی بیوسی لے گی۔یہ قربانی کوئی معمولی قربانی نہیں میرے نزدیک تو کوئی نہایت ہی بے شرم اور بے حیا ہی ہو سکتا ہے جو اس قسم کی قربانیوں کی قیمت کو نہ سمجھے اور انہیں نظر انداز کر دے۔اسی طرح مولوی جلال الدین صاحب سمستی ہیں