تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 352
چین کا رسالانہ چندہ ایک لاکھ کے قریب پہنچ گیا۔احمدی سپاہیوں نے اندرون ملک اور ملک سے باہر شرق وسطی مشرق بعید میں فرض شناسی اور شجاعت بہادری کے خوب جو ہر دکھلائے۔اس دوران میں نہیں ہانگ کا تنگ وغیرہ علاقوں میں ہندوستانی فوجیوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا اور جاپان کی قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑیں مگر انہوں نے کمال صبروتحمل کا نمونہ دکھلایا۔اور نظر بندی کے زمانہیں نمازوں اور دعاؤں کا خاص التزام رکھتے جو احمد بیت کی تعلیم کا اعجاز تھا۔از بیرونی مبلغین کے لئے حضرت خیرہ المسیح الثانی کو سیسہ کے مبلغین سے در حد محبت تھی خصوصی دعا کی تحریک اور حضور اپنے بیٹوں سے بڑھ کر ان پرشفقت فرماتے تھے۔اور خصوصاً اور یا ہر جانے والے مبلغوں کی نسبت تو فرمایا کرتے تھے کہ میرے دل میں اُن کے لئے جذبات ممنونیت اس درجہ پیدا ہوتے ہیں کہ اگرچہ وہ محض سلسلہ کی خاطر اپنے وطنوں کو خیر باد کہتے ہیں گریں سمجھتا ہوں کہ یہ گویا میرے ذاتی کام کے لئے جا رہے ہیں۔سمبر ۶۱۹۴۲ جنگ کے قیام میں حضور اپنے ان خدام کے لئے جو کتاب عالم میں مصروف تبلیغ تھے اور نہ ا ئب و آلام میں گھر گئے تھے بہت مشوش تھے اور اُن کی خیریت و سلامتی اور اُن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے خود بھی دعائیں فرماتے اور سالانہ جل کے موقعہ پر احباب جماعت کو بھی ارشاد فرماتے کہ وہ اپنی دعاؤں میں ان مجاہدین کو خاص طور پر یاد رکھیں۔اس سال کے دوران میں جب رمضان کے مبارک ایام آئے جو دعاؤں کی قبولیت کے لئے خصوصیت رکھتے ہیں تو حضور نے ۵ ارماہ ہو م کو اپنے خطبہ جمعہ میں متقین کے لئے خصوصی ۵ار دعا کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا :- آج کل سینکڑوں نہیں ہزاروں احمدی لڑائی میں گئے ہوئے ہیں۔شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں بڑی تعداد میں احمدی رہتے ہوں اور وہاں سے کوئی احمدی لڑائی میں نہ گیا ہو۔پھر بہت سے احمد ہیں جو لڑائی کی وجہ سے آجکل قید ہیں۔اسی طرح ہمارے کئی مبلغ قید ہیں یا قیر نما حالت میں ہیں۔اُن میں سے دس بارہ تو مشرقی ایشیا میں ہی ہیں۔مستند مولوی رحمت علی صاحب ، مولوی شاہ محمد صاحب ، ملک عزیز احمد صاحب ، مولوی محمد صادق صاحب ، موادی اے رپورٹ سالانہ صدر انجین احمدیہ قادیان ه صفر ۱۵۹ + ۲ تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو محمد نصیب جناب عارفت د پسر ابو حمد شریف صاحب مرحوم محلہ دار ا رحمت قادیان) کے مضامین مطبوعہ الفضل ۲۹ ا ا و ♥M $15 والفضل صحیح ۱۳:۲۵ دهار