تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 340 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 340

٣٣٠ اور ان کے ملک کو ان خطر ناک نتائج جنگ سے جو دوسرے مقامات پر پیش آرہے ہیں بچا ہے۔اور اسلام کے نام لیواؤں کو خواہ وہ کیسی ہی گندی حالت میں ہیں اور خواہ سمر سے اُن کے کتنے اختلافات میں اُن کی حفاظت فرما اور اندونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ جو کام آج ہم اپنے ہاتھوں سے نہیں کر سکتے وہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ کردے اور ہمارے دل کا دکھ ہما ر ہا تھوں کی قربانیوں کا قائم مقام ہو جائے یا شئے بعض متعصب ہندو ہمیشہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوستان کی نسبت نگر اور مدینہ کی محبت بہت زیادہ ہے۔اس موقعہ پر حضور نے اس اعتراض کا یہ نہایت لطیف جواب دیا کہ :- بے شک، دین کی محبت ہمارے دلوں میں زیادہ ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وطن کی محبت نہیں ہے۔اگر ہمارا ملک خطرہ میں ہو تو ہم اس کے لئے قربانی کرنے میں کسی ہندو سے پیچھے نہیں رہیں گے لیکن اگر دونوں خطرہ میں ہوں یعنی ملک اور مقامات مقدسہ تو مؤخر الذکر کی حفاظت چونکہ دین ہے اور زندہ خدا کے شعار کی حفاظت کا سوال ہے اس لئے ہم اُسے مقدم کرینگے۔بیشک۔۔ہم عرب کے پتھروں کو ہندوستان کے پتھروں پر فضیلت نہ دیں لیکن ان پتھروں کو صرف فضیلت دیں گے جن کو خدا تعالے نے ہمارے لئے فضیلت کا مقام بنایا ہے۔۔۔۔۔۔۔ایک مادہ پرست ہندو کیا جانتا ہے کہ وطن اور خدا تعالے کے پیدا کردہ شعائر میں کیا فرق ہے۔وہ عرفان اور نیکی نہ ہونے۔کی وجہ سے اس فرق کو سمجھ نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ بہار ایمان کا جزء ہے مگر وہ گلیاں جن میں ہمارے پیارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ہیں۔وہ پتھر نہیں خدا تعالے نے ہمارے لئے عبادت کا مقام بنایا ہمیں وطن سے زیادہ عزیہ ہیں یا پسر کوئی ہندو یا عیسائی حاسد جلتا ہے تو جل مرے ہیں اس کی کوئی پروا نہیں اسے حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی اس تحریک پر قادیان اور بیرونی احمد می جماعتوں میں مقاما مقدسہ کے لئے مکمل نہایت پر درد دُعاؤں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔اللہ تعالے نے اپنے فضل و کرم سے اپنے محبوب خلیفہ اور اپنی پیاری جماعت کی تصرفات کو بیائید قبولیت جگہ دی اور جلد ہی جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔۱۲۳ ماده ۱۳۲۲ (۲۳ اکتوبر (۹۴) کو برطانی فوجوں نے العالمین پر جوابی بیخیار شروع کی۔اُدھر له الفضل ر صفحه بم و ت الفضل جولائی ۶۹۳