تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 325 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 325

۳۱۵ کرتے ہیں یا شاید بعض کے لئے اس میں سترا کا کوئی پہلا مخفی ہو۔یا شاید اس ذریعہ سے اللہ تعلی ہمیں ثواب دینا چاہتا ہو کہ چونکہ ان کو رزق نہیں ملا اسلئے تم ان کو رزق دے کر اللہ تعالئے سے ثواب حاصل کرد - نامعلوم ان تینوں باتوں سے کونسی بات اللہ نالے کے مدنظر ہے۔لیکن بہر حال یہ یقینی بات ہے کہ غریب بندے خدا تعالے کے رزق میں ہم سے کم حصہ دار نہیں اور ہم میں سے کوئی فرد ایسا نہیں جو بشر ہونے کے لحاظ سے ایک غریب پر فوقیت رکھتا ہو۔بلکہ بشر ہونے کے لحاظ سے نبی اور کافر بھی برا بر ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں بار بار اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے۔قُلْ مَا أَنَا إِلَّا بَشر مثلكم یعنی یعنی اے رسول! کہارے۔ابو جہل سے کہدے ، عقبہ سے کہار سے شیبہ سے کہدے کہ بشر ہونے کے لحاظ سے میں تمہاری طرح ہی ہوں اور مجھے میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔اگر فرق ہے تو یہ کہ میں نے خدا تعالیٰ کے قرب کو پا لیا اور تم نے اس کا انکار کر کے اُسے ناراض کر دیا۔اگر تم بھی نیکی اور تقوی اختیار کرو اور تم بھی قربانیوں میں حصہ لو - تو اللہ تعالیٰ تم کو بھی ایسا ہی محبوب بنا سکتا ہے جیسے اس نے اور لوگوں کو بنایا۔آخر خدا نے ابو جہل کو ابو جہل اور ابو بکر کو ابو بکر اسلئے بنایا کہ ابوبکر نے اپنی بشریت کا صحیح استعمال کیا۔ابوجہل نے صحیح استعمال نہ کیا۔اگر ابو جہل بھی اپنی بشریت کا صحیح استعمال کرتا تو وہ بھی ابوبکر بن جاتا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہیں جن کے ماتحت وہ کسی کو رزق دے دیتا ہے اور کسی کو نہیں دیتا۔یہ بات غلط ہے کہ اگر کوئی عالم ہو تو اسے رزق مل جاتا ہے اور اگر عالم نہ ہو تو رزق نہیں تھا۔ہزاروں انٹرنس پاس ہیں جو چار چار سو پانچ پانچ سو روپیہ تنخواہ نے رہے ہیں اور ہزاروں بی۔اے اور ایم۔اے ہیں جنہیں نہیں میں تیس تیس ہے کی بھی نوکری نہیں ملتی اور اگر ملتی ہے تو عارضی طور پہ۔پس یہ کوئی خدا کی مشیت ہے جس کے ماتحت وہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا رہتا ہے۔ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئیے کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہو یا منه الفضل ۱۳۰ هجرت ۱۳۳ پلش (۳۰ رستی (۶/۱۹۲۲) صفحه ۷ و ۸