تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 313
۳۰۳ مندر جہ بالا عربی فتوالی کا ترجمہ حسب ذیل ہے :- ترجمہ : ازہر کی سب سے بڑی مجلس کے پاس جناب عبد الکریم خان صاحب ہے نے جو ان دنوں مشرق وسطی کی فوجوں کی قیادت عامہ میں شامل ہیں۔ایک استفسار بھیجا کہ کیا قرآن کریم اور سنت نبویہ سے حضرت عیسی فوت شدہ ثابت ہوتے ہیں یا زندہ ؟ نیز اس مسلمان کے متعلق کیا فتوی ہے جو حیات مسیح کا منگر ہے؟ اور اگر حضرت علی کا دوبارہ دنیا میں آنا درست ہو تو جو شخص اس وقت ان پر ایمان نہ لائے گا اس کا کیا حکم ہے ؟ یہ استفسار جواب کے لئے جماعت کبار العلماء کے رکن فضیلت الاستاذ علامه محمود شلتوت کے سپرد کیا گیا۔جنہوں نے حسب ذیل جواب تحریر کیا ہے۔اما بعد قرآن کریم نے تین صورتوں میں حضرت علی علیہ سلام کا ایسے طور پر ذکر فرمایا ہے جس سے اس انجام کا پتہ لگتا ہے جو ان کا اپنی قومہ کے ساتھ ہوا۔۱۔سورۃ آل عمران میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔فَدنَا آمَسَ عِيسَى مِنْهُمُ الكفر والآية ) ٣- سورة النساء میں آتا ہے وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيبُ عَلَى بْنَ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ الآية ) ٣ - سورة المائدہ میں فرمایا - وَإِذْ قَالَ اللهُ يَا عِيسَى ابْرَى مَرْيَمَ (الآية ) یہی آیات ہیں جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کے انجام کو قرآن پاک نے بیان کیا ہے۔آخری آیت (سورۃ مائدہ والی اس معاملہ کا ذکر کرتی ہے جو دنیا میں نصاری کے سینے اور ان کی والدہ کی عبادت کرنے سے متعلق ہے لہ تعالی نے اس بارے میں حضرت بیچے سے سوال کیا ہے۔آیت مذکورہ حضرت کیے کی زبانی بتاتی ہے کہ انہوں لوگوں کو ہمیشہ ہی کہا جس کا اللہ تعالی نے اکو حکم دیا تھا یعنی کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہا رات ہے نیز آیت بتلاتی ہے کہ جب تک حضرت علی ان کے درمیان رہے اُن کے نگران تھے در انہیں اپنی توئی کے بعد اپنی قومیں پیدا ہونے والے واقعات وحالات کا مطلقاً علم نہیں ہے۔لفظ تو فی قرآن مجید میں موت کے معنوں میں بکثرت آیا ہے یہاں تک کہ توفی کے یہ معنے ہی غالب اور متبادر ہو گئے ہیں۔اور لفظ تو قی موت کے معنے کے سوا کسی اورمعنی میں صرف اسی وقت استعمال ہوا ہے جگہ اس کے ساتھ کوئی ایسا ر نہ پایا جاتا ہو جو اسے ان متبادر الی الذین معنوں میں استعمال ہونے سے روکتا ہو۔آیات ذیل اے عبد الکریم خان جناب یوسف زئی نوری 1 ء میں بمقام گروپ (جموں) پیدا ہوئے اور ا ہوں پیدا ہوئے اور غالیا ، جون داد کو تحریری بیعت کر کے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے دالحکم اور جولائی ۱۹۳۶ ء صفحہ ۱۱۹) دوسری جنگ عظیم کے در ری جنگ عظیم کے دوران آپ مشرق وسطہ میں مقیم تھے اور اسی زمانہ میں آپنے علماء مصر سے یہ فتوی طلب کیا ؟ مخالفین نے پوری کوشش کی کہ آپ کو مصری عدالت میں گھر بیٹا جائے مگر ناکام رہے۔افسوس !! مار کر دیئے گئے۔(الفضل سر ظهور