تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 288
Y&A ام الدین صاحب کا نام (معہ اہمیت پر اور اُن کے بھائیوں کے نام زمعہ اہمیت ) ۳۰-۳۱ نمبر پر لکھے۔اور تحریر فرمایا : میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ اُن میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور غیر دین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے میں وہ تینوں غریب بھائی میں جوش ایدر تین آند یا چار آند روزانه مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ان کے دوست میان عبد العزیزہ پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ وہ با وجود قلت معاش کے ایک دن مورد چیر دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔وہ سو روپید شاید اُس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا۔مگر یہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش یا یا باشند پھر اکتوبر کو اپنے اشتہار بعنوان " جلسة الوداع " میں وفد نصیبین کے اخراجات کے تعلق میں تحریر فرمایا :- نشی عبد العزیز صاحب پیوری ساکن او جلہ ضلع گورداسپورہ نے باوجود قلت سرمایہ کے ایک صو میں (۱۲۵) روپے دیئے ہیں۔میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداس پورہ اور ان کے دور از حقیقی میاں امام الدین اور میاں خیر دین نے پچاس روپے دیئے ہیں۔ان چاروں صاحبوں کے چنان کا معاملہ نہایت تھیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ نہ رکھتے ہیں گیا حضرت بوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ سب سے آئے ہیں اور دین کو آخرت پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی یا سکہ۔علاوہ ازیں جب حضور علیہ السلام نے یکم جولائی منشائے کو سارہ المسیح قادیان کے لئے سو صو روپیہ دینے والے مخلصین کی فہرست شائع فرمائی تو ان تینوں بھائیوں اور اُن کے والد محمد صدیق صاحب چاروں کی طرف سے ایک نمو روپیہ منظور فرما کر ان کے نام نمبر ۱۴ پر درج فرائے کے المختصر حضرت مولوی امام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت علی مرتبہ صحابہ میں سے تھے۔مینشی محمد دین صاحب به بیشتر دین پوره لاهور دونات ه ر احسان در مطلبی در خون داره نا ضمیمه انجام آنهیم صفحہ اس کالم ۳ : ۵۲۰ ضمیمه انجام آنهم حاشیه صفحه ۱۲۰/۲۹ ۱۳ ضمیمه اشهار الانصار مرا کتوبر شده اند مشموله تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحور 1 + آن اشتہار یکم جولائی اور مشمولد تبلیغ رسالت جلد نهم + ه الفضل ، را حسان ه ۱۳۵۶ در ریون ۱۹۴۷) صفحه ۲ کالم )