تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 280
٢٠ ید اعتراض که جماعت کے نظام کا کوئی فائدہ نہ ہوا بے محل اعتراض تھا۔کیونکہ یہاں تک امام جماعت احمدیہ کا تعلق تھا گورنمنٹ چند دنوں کے اندر اندر معذرت کا اظہار کر چکی تھی اور میں نے اس معذرت کو قبول نہیں کیا تھا۔اس لئے کہ میرے نزدیک امام جماعت احمدیہ ہونے کی حیثیت سے حکومت کی معذرت کافی نہ تھی رات این وضاحت کے بعد حضور نے کمشنر صاحب لاہور کے گورداسپور آنے اور پھر حکومت کے تحریری معذرت نامہ کرنے کا ذکر کرنے کے بعد حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری کی انگریزی چٹھی اور اس کا ترجمہ سنایا اور پھر اعلان فرمایا :- گو اس میٹھی میں تین بعض سوالات کا جو ہم نے اٹھائے ہوئے تھے جواب نہیں دیا گیا مگر بہر حال اس میں گورنمنٹ نے اس طریق کو اختیار نہیں کیا جو پہلے کیا تھا کہ اگر نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں آپ کا تعلق ہے تو ایسا واقعہ نہ ہوتا۔بلکہ بعض واقعہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ قابل افسوس ہے اور اُن افسروں کو سزادی گئی ہے جو اس کے ذمدار ہیں۔میں نے جنگ کے حالات کو مد نظر کتے تو گورنٹ کے اس اظہار افسوس کو قبول کر لیا ہے اور اسے لکھ دیا ہے کہ ہم اس واقعہ کو آب ختم شدہ کہتے ہیں۔بہائے واقعہ ڈھوری میں حکومت کے حضرت امیرالمومنین خلیفہ ایسی الثانی نے جو حکومت پنجاب اعلی حکام کے ملوث ہونے کا ثبوت کی معذرت قبول فرما لینے کا اعلان کر دیا مگر ساتھ ہی اس واقعہ کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے پوری وضاحت سے بتایا کہ : میں جہاں تک سمجھتا ہوں کو گورنمنٹ کے لئے یہ ماننا مشکل ہے کہ اس واقعہ کی بنیاد بعض اعلیٰ نگام کی سلسلہ احمدیہ سے مخالفت ہے کیونکہ واقعات بتاتے ہیں کہ جن امور کی وجہ سے یہ کاروائی کی گئی ہے وہ ڈیڑھ سال پہلے کے تھے۔اور اس کی ڈپٹی کمشنر اور پر نٹنڈنٹ پولیس کو بھی اطلاعیں دی جا چکی تھیں۔ان مخالف انسوں میں سے مثال میں سی آئی ڈی کے ایک اعلی افسر کا ذکر کرتا ہوں۔سال سوا سالی ہوا انہوں نے ہمارے مبلغ صوفی عبد القدیر صاحب کو بلایا اور ان سے کہا کہ ان الفضل مات صفحه کالم سوم * له الفضل می ملل متحده کانم ۲ + صفحه ۳ + ۳۰ رنگی ۶۱۹۴۲