تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 279
تقدس مآب : ۲۶۹ پنجاب گورنمنٹ اس واقعہ کے متعلق جو گذشتہ ستمبر میں ڈاہوری میں آپ کے گھر پر ہوا تھا اور جس میں پولیوں نے ایک ضبط شدہ ٹریکٹ کے متعلق کارروائی کی تھی اس وقت تک تحقیقات کرتی رہی ہے اور اب اس کے متعلق مندرجہ ذیل تحریر بھجواتی ہے :۔بعض اتفاقی واقعات کی وجہ سے جو قابل افسوس ہیں پولیس کا کوئی اعلیٰ افسر اس وقت ڈھوری میں موجود نہیں تھا جو اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیتا۔مگر یہ بات تحقیقات سے ثابت ہے کہ جونیئر افسر انچارج نے اپنے فرائض کے ادا کرنے میں عقل اور پوری توجہ سے کام نہیں لیا۔گورنمنٹ نے اس افسر اور ماتحت افسروں کے خلاف جن کا اس واقعہ سے تعلق تھا مناسب کا دروائی کی ہے۔اور مجھے گورنمنٹ پنجاب کی طرف سے ہدایت ہوئی ہے کہ میں اس بارہ میں تحریر کروں کہ گورنمنٹ پنجاب کو اس تکلیت پر جو آپ کو یا آپ کے خاندان کے لوگوں کو پہنچی ہوگی شدید افسوس ہے۔آخرمیں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس امر کے اظہار کی ضرورت نہیں۔اس واقعہ سے کسی قسم کی مہتک یات مد نظر نہیں تھی۔آپ کی ذات کی یا اس مذہبی جماعت کی جس کے آپ معزز مہر دار ہیں اسے حضرت خلیفہ یا الان کا اعلان اور نی نی نی توانای بی بی سی کے سینے پر ر ہجرت اللہ کے خطبہ جمعہ میں فرمایا : سی ۶۱۹۴۲ جہاں تک امام جماعت احمدیہ کا سوال ہے گورنمنٹ شروع میں ہی اظہار افسوس کہ چکی تھی لیکن ہماری بحث گورنمنٹ سے یہ نہیں تھی کہ امام جماعت احمدیہ سے یہ واقعہ پیش نہیں آنا چاہیئے تھا بل کہ ہماری بحث یہ تھی کہ کسی بہانت ستانی سے بھی ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہئے۔چنانچہ گورنمنٹ نے جو مجھے اُس وقت چٹھی لکھی تھی اس میں اس نے لکھا تھا کہ افسوس ہے ہمیں غلطی لگی اور ہمیں اس وقت یہ معلوم نہیں ہوا کہ امامیہ جماعت احمدیہ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔میں نے اسی وقت اس چھٹی کے جواب میں گورنمنٹ کو لکھ دیا تھا کہ میری اس جواب سے تسلی نہیں ہو سکتی کیونکہ میرا سوال انصاف کے قیام کے متعلق ہے۔میرا سوال یہ نہیں کہ امام جماعت احمدیہ سے اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آتا چاہیئے تھا بلکہ میرا سوال یہ ہے کہ کسی ہندوستانی کو بھی ایسا واقعہ پیش نہ آئے ہیں اس کا اجرت ها صفحه ا الفضل ۳۰ مج ۶۱۹۳۳