تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 8
کے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں " سے سیدنا حضرت امیرالمونین خلیفہ اسیح الثانی اگر چہ اہل مغرب کو حلقہ بگوش تقویم هجری شمس کا اجرا اسلام کرنے کے بہت فکر مند اور اسی وجہ سے ان کے دلی خیر خواہ اور میونس ضویہ تھے۔مگر آپ کو فطری طور پر مغربیت سے شدید نفرت تھی اور اس کا اظہار اپنی تقریروں اور تحریروں میں ہمیشہ بر ملا فرمایا کرتے تھے۔آپ کی یہ بھی قلبی خواہش تھی کہ جماعت احمدیہ کا ایک ایک فرد مغربیت کی ایک ایک یاد گار کو صفحہ ہستی سے مٹاکر اُن کی جگہ اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیم کی شاندار عمارت استوار کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو جائے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی اس سلسلہ میں اپنے زمانہ خلافت کے آغاز ہی سے مختلف عملی اقدامات کرتے آرہے تھے۔نومبر 1917ء میں حضور نے تحریک جدید کی بنیاد رکھی جس کے متعدد مطالبات میں مغربیت سے بغاوت کی روح نمایاں طور پر کار فرما تھی۔بعد ازاں حضور نے سالانہ جلسہ ۹۳ کے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیات نام کے علم کلام اور الہامات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کے سامنے علیہ اسلام کا یہ واضح تصور پیش فرمایا کہ :- س طرح آج باد بود مذاہب کے اختلاف کے مغربی تہذیب دنیا پر غالب آئی ہوئی ہے اسی طرح ہمارا کام ہے کہ ہم اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب کو اس قدر رائج کریں کہ لوگ خواہ عیسائی ہوں مگر ان کی تہذیب اور اُن کا تمدن اسلامی ہو۔لوگ خواہ یہودی ہوں مگر اُن کی تہذیب اور اُن کا تمدن اسلامی ہو۔لوگ خواہ مذہبا ہندو ہوں مگر اُن کی تہذیب اور اُن کا تمدن اسلامی ہو۔یہ چیز ہے جس کے پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔کہ تہذیب اسلامی کو اتنا رائج کیا جائے اتنا رائج کیا جائے کہ اگر کچھ حصہ دنیا کا اسلام سے باہر بھی رہ بجائے پھر بھی اسلامی تہذیب اُن کے گھروں میں داخل ہو جائے۔اور وہ وہی نمستن قبول کریں جو اسلامی تمدن ہو۔گویا جس طرح آجکل لوگ کہتے ہیں کہ مغربی تمدن بہتر ہے۔اسی طرح دنیا میں ایسی رو چل پڑے کہ ہر شخص یہ کہنے لگ جائے کہ اسلامی تمدن ہی سب سے بہتر ہے۔$195۔ے اخبار الفضل قادیان دار الامان مورخه ۲۵ جنوری سن ۱۹ بمطابق ها بر دوا سمجه ۱۳۵ ورده انقلاب حقیقی » صفحه ۱۱۰۰۰۹۹ ( تقریر فرموده ۲۸ دسمبر سان اور بر موقعه علیه سالانه قادیان * "