تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 248
اس سے دھوکہ ہی نہ دیا ہو۔چنانچہ پھر سے ڈانٹا۔آخر وہ کہنے لگا۔مجھے برا بھلا نہ کہو اور جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو واقع میں مرزا صاحب آئے ہوئے ہیں۔غرض میں کبھی دھوتا اور کبھی یہ خیال کر کے کہ مجھ سے مذاق ہی نہ کیا گیا ہو ٹھہر جاتا۔میری یہی حالت تھی کہ میں نے سامنے کی طرف جو دیکھا تو فقر مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام تشریف لا رہے تھے۔آپ یہ والہانہ محبت اور عشق کا رنگ کتنے لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔یقیناً بہت ہی کم لوگوں کے دلوں میں۔میاں عبد اللہ صاحب سنوری بھی اپنے اندر ایسا ہی عشق رکھتے تھے۔ایک دفعہ وہ قادیان میں آئے اور حضرت سیح موعود علیہ اسلام سے ملے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن سے کوئی کام لے رہے تھے اس لئے جب میاں عبد اللہ صاحب سنوری کی چھٹی ختم ہوگئی اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جانے کیلئے اجازت طلب کی تو حضور نے فرمایا۔ابھی ٹھہر جاؤ۔چنانچہ انہوں نے مزیادہ رخصت کے لئے درخواست بھجوادی نگر محکمہ کی طرف سے جواب آیا کہ اور چھٹی نہیں مل سکتی تو انہوں نے اس امر کا حضرت کی موعو علی السلام سے ذکر کیا تو آپ نے پھر فرمایا کہ ابھی ٹھہرو۔چنانچہ انہوں نے لکھ دیا کہ میں ابھی نہیں آسکتا۔اس پر محکمہ والوں نے انہیں ڈریں مس کر دیا۔چار یا چھے مہینے جتنا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں رہنے کے لئے کہا تھا وہ یہاں ٹھہرے رہے۔پھر جب واپس گئے تو محکمہ نے یہ سوال اٹھا دیا کہ میں افسر نے انہیں ڈس میں کیا تھا اس افسر کا یہ حق ہی نہیں تھا کہ وہ انہیں ڈس میں کرتا۔چنانچہ وہ پھراپنی جگہ پر بحال کئے گئے اور پچھلے مہینوں کی جو قادیان میں گزر گئے تھے تنخواہ بھی مل گئی۔اسی طرح منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے ساتھ واقعہ پیش آیا جو کل ہی ڈلہوزی کے راستہ میں میاں عطاء اللہ صاحب وکیل سلم اللہ تعالیٰ نے سنایا۔یہ واقعہ الحکم ۱۲ را پر یا دیا چکا ہے۔اس لئے منشی صاحب کے اپنے الفاظ میں اسے بیان کرتا ہوں :- میں جب سر رشتہ دار ہوگیا اور پیشی میں کام کرتا تھا تو ایک دن مسلیں وغیرہ بند کر کے قادریان چلا آیا۔تیسرے دن میں نے اجازت چاہی تو فرمایا ابھی ٹھہری۔پھر عرض کرنا مناسب نہ سمجھا کہ آپ ہی فرمائیں گے اس پر ایک مہینہ گزر گیا۔ادھر سکیں میرے گھر یں تھیں کام بنا۔ہوگیا اور سخنت مخطوط آنے لگے گا یہ ہی یہ حالت تھی کہ ان خطوط کے متعلق دہم بھی نہ آتا تھا۔حضور کی صحبت میں ایک ایسا لطف اور محویت تھی کہ نہ نوکری جانے کا خیال تھا اور نہ کسی بات پر سی کا اندیشہ به