تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 247 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 247

آپ کو چھٹی نہیں دی جا سکتی۔وہ کہنے لگے بہت اچھا : آپ کا کام ہوتا رہے میں تو آج ہی بددعا میں لگ جاتا ہوں۔آپ اگر نہیں جانے دیتے تو نہ جانے دیں۔آخر اس مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان پہنچا کہ وہ سخت ڈر گیا اور جب بھی ہفتہ کا دن آتا وہ عدالت والوں سے کہتا کہ آج کام ذرا جلدی بند کر دیا۔کیونکہ منشی روڑے خان صاحب کی گاڑی کا وقت نکل جائیگا۔اس طرح وہ آپ ہی جب بھی منشی صاحبت کا ارادہ قادیان آنے کا ہوتا انہیں چھٹی دے دیتا۔اور وہ تمادیان پر پہنچ جاتے۔پھر اُن محبت کا یہ نقشہ بھی مجھے کبھی نہیں بھولتا جو گو انہوں نے مجھے خود ہی سنایا تھا مگر میری آنکھوں کے سامنے وہ یوں پھرتا رہتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے اس واقعہ کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا۔انہوں نے سنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ ہم نے عرض کیا کہ حضور کبھی کپور تھالہ تشریف لائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وعدہ فرمالیا کہ جب فرصت ملی تو آ جاؤنگا۔وہ کہتے تھے ایک دن کپورتھلہ میں میں ایک دوکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شدید ترین دشمن اڈے کی طرف سے آیا۔اور مجھے کہنے لگا تو تمہارا مرزا کپور تھلے آگیا ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو نسب مہلت کی وہ اطلاع دینے کا وقت نہ تھا اس لئے آپ بغیر اطلاع دیئے ہی چل پڑے مینشی روڑے خان صاحب نے یہ خبر سنی تو وہ خوشی میں تنگے سر اور ننگے پاؤں اڈے کی طرف بھاگے مگر چونکہ خبر دینے والا شدید ترین مخالف تھا۔وہ ہمیشہ احمدیت سے تمسخر کرتا رہتا تھا ان کا بیان تھا کہ تھوڑی دور جا کہ مجھے خیال آیا کہ یہ بڑا بیٹ دشمن ہے اس نے ضرور مجھ سے ہنسی کی ہوگی۔چنانچہ مجھے پہ جنون سا طاری ہوگا اور یہ خیال کرکے کہ نا معلوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے بھی ہیں یا نہیں۔میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اُسے بے تحاشہ برا بھلا کہنا شروع کر دیا کہ تو بڑا خبیث اور بد معاش ہے۔تو کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا اور یہ ہنسی کرتا رہتا ہے بھلا ہماری قسمت کہاں کو حضرت صاحب کپورتھلہ تشریف لائیں۔وہ کہنے لگا کہ آپ ناراض نہ ہوں اور جا کر دیکھ لین مرزا صاحب واقع میں آئے ہوئے ہیں۔اُس نے یہ کہا تو میں پھر دوڑا مگر پھر خیال آیا کہ اس نے ضرور مجھ سے دھو کہ کیا ہے چنانچہ پھر میں اُسے کوسنے لگا کہ تو بڑا جھوٹا ہے ہمیشہ مجھ سے مذاق کرتا رہتا ہے ہماری ایسی قسمت کہاں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ہمارے ہاں تشریف لائیں۔مگر اُس نے پھر کہا۔خشی صاحب وقت ضائع نہ کریں مرزا صاحب واقع میں آئے ہوئے ہیں۔چنانچہ پھر اسی خیال سے کہ مث یاد آہی گئے ہوں میں دوڑ پڑا اگر پھر یہ خیال آجاتا کہ کہیں