تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 243 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 243

۲۳۴ یکن آنے والا ہوں اور اگر مناصب نہ ہوا تو وہ انتظار نہیں کرینگے۔چنانچہ جب میں یہاں پہنچاتو مجھے معلوم ہوا کہ پریوں رات ہی انہیں دفن کیا جا چکا ہے۔مدتیں جمعہ کے بعد ان کا جنازہ پڑھا لگا۔کیسے نہیں معلوم کہ کس حد تک یہاں کے لوگوں کو اس جنازہ کا علم ہوا اور وہ کس مدیک اس میں شامل ہوئے لیکن بہر حال جو لوگ اُن کے جنازہ میں شامل نہیں ہو سکے تھے اب ان کو بھی موقع مل جائیگا اور جو لوگ شامل ہو چکے ہیں انہیں دربارہ دُعا کا موقعہ مل جائیگا۔میں سمجھتا ہوں لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے عدی کے ابتدائی ایام میں آپ پر ایمان لائے، آپ سے تعلق پیدا کیا اور ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے اس راہ میں انہوں نے ہزارہ ہی نہیں اور تکلیفیں برداشت کیں اُن کی وفات جماعت کے لئے کوئی معمولی مدرسہ نہیں ہوتا۔میرے نزدیک ایک مومن کو اپنی بیوی اپنے بچوں اپنے باپ اپنی ماں اور اپنے بھائیوں کی وفات سے ان لوگوں کی وفات کا بہت زیادہ صدمہ ہونا چاہیئے اور یہ واقعہ تو ایسا ہے کہ دل اُس کا تصور کر کے سخت دردمند ہوتا ہے کیونکہ منشی ظفر احمد صاحب ان آدمیوں میں سے آخری آدمی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و اسلام کے ساتھ انتہائی ایام میں اکٹھے رہے اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہ رتبہ پنجاب کی دو ریاستوں کو ہی حاصل ہوا۔پٹیالہ میں میاں عبداللہ صاحب سنوری کو خداتعالی نے یہ رتبہ دیا۔کپور تھالی می نشی اروڑے خان صاحب نے عبد المجید خان صاحب کے والدینشی محمد خان صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب کو یہ مرتبہ ملا۔یہ چار آدمی تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کوئی ماموریت اور بیعت سے بھی پہلے کے تعلقات تھے اور اس قسم کے خادم نہ تعلقات تھے کہ ایک منٹ کے لئے بھی دور رہنا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔پس ایسے لوگوں کی وفات ایک بہت بڑا اور اہم مسلہ ہوتا ہے اور ان لوگوں کے لئے دعا کرنا اُن پر احسان کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے اوپر احسان ہوتا ہے۔بیٹے ازاں بعد حضور حضرت منشی عبدالله صاحب سنوری ، حضرت منشی روڑے خان صاحب ، حضرت منشی محمد خان سی این اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے کے بلند مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے والہانہ اخلاص و فدائیت کے متعدد واقعات بیان کئے۔چنانچہ فرمایا :- وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی ابتدائی زمانہ میں خدمات کی میں ایسی ہستیاں ہیں کہ جو الفضل ۲۸ فور صفحه ا۲۰ به احمدیت ۶۱۹۴۱