تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 198
۱۹۱ پھر وہاں سے پیدل چل کر ملتان آئے۔میاں محمد بخش صاحب احمدی چھاپ کر کے ہاں رات بسر کی۔زاد راہ کم تھا اس لئے صرف ملتان سے لاہور تک گاڑی میں سفر کیا اور پھر پیدل سفر کرتے اور تکلیف اُٹھاتے پروانہ وا قادیان پہنچے۔صبح کی نماز کے وقت حضرت اقدس مسیح زماں مہندی دوراں تشریف لائے حضرت مولوی جنڈا مرحوم نے اپنے رویاء کی بناء پر حضور کو پہچان لیا۔حضرت میاں اللہ بخش صاحب فرمایا کرتے تھے۔میں نے چہرہ مبارک کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو دل باغ باغ ہو گیا۔دیکھنے سے دل کی سیری نہ ہوتی تھی۔چاہتے تھے کہ دنیا و مافیہا کو چھوڑ کر آپ کا دیدار کرتے رہیں۔حضرت اقدس نماز کے بعد تھوڑی دیر تک مسجد میں جلوہ افروز رہے۔پھر اندرون خانہ تشریف لے گئے ہم نے بیعت کی درخواست کی۔فرمایا کچھ دن ٹھہرو - ہم شنبہ یعنی سنیچر کے دن دارالامان بوقت شام پہنچے۔اور جمعہ پڑھ کر واپس لوٹے۔گویا ہمارا قیام دارالامان میں صرف سات دن رہا۔جمعہ کے دن ہم دونوں نے بیعت کی۔کچھ اور آدمیوں نے بھی بیعت کی اور ہم واپس لوٹے۔حضرت اقدس نے ہمارے لئے دعا فرمائی حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے جب ہم رخصت ہونے لگے تو آپ نے بھی دُعا ہمارے وطن کے حالات بھی دریافت فرمائے اور نہایت ہمدردی سے پیش فرمائی۔آئے۔ہم جمعہ پڑھ کر واپس روانہ ہوئے۔جب ہم دارالامان سے واپس آگئے تو ہماری سخت مخالفت شروع ہو گئی۔مولوی چند وڈا صاحب بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے۔بچوں کو اُن سے پڑھانا بند کر دیا۔اُن کی جو خدمت کرتے تھے اس سے ہاتھ اٹھا لیا۔اُن کا اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہ تھا۔مگر اس متوکل انسان نے اس کی کوئی پروانہ کی میرے رشتہ داروں نے قطع تعلق کر لیا۔ہر طرح سنایا اور میں اکیلا رہ گیا۔چھ سات سال بعد شیر محمد خان نمبردار جو ہماری برادری کے معزز فرد تھے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ خلافت میں شامل احمدیت ہو گئے۔پھر میرے خُسر نے بیعت کرلی اور آہستہ آہستہ ایک اچھی جماعت بستی بزدار میں قائم ہو گئی ہے حضرت میابی اللہ بخش صاحب کو حدیث شریف پڑھنے اور سننے کا از حد شوق تھا۔قرآن وحدیث یا سید نا المسيح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب کا مطالعہ کرتے تو آپ کی آنکھیں پھر تم ہو جائیں۔نمازیں ۱۳۲۱ حکم ۲۸ ہجرت امنی بس مش صفحه ۱۹-۲۰ ، " الحكم " ۷ - ۲۸ احسان ابون مایش صفحه میں آپ کے مفصل حالات شائع ہو چکے ہیں ؟