تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 185
کی گہری تدبیر جو انہوں نے ان جماعتوں کو خوش کر کے مرکز احمدیت سے بدظن کرنے کے لئے کی تھی پوری طرح نا کام ہو چکی تھی مگر اس کے باوجود حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اگلے دن اپنی تقریر کے دوران دوبارہ تمام حاضرین سے رائے طلب کی کہ اگر آپ لوگ جلسہ کے موقعہ یہ ان کی تقریریں سننا چاہتے ہیں تو بتا دیں۔میں کل کا دن انہیں دے سکتا ہوں اور ابھی تار دے کر ان کو بلا لیتا ہوں" سے یہ سُن کو جلسہ میں شامل سب احباب نے بالاتفاق کہا کہ ہم ان کی کوئی بات نہیں سننا چاہتے۔اس پر حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا :- اگر جماعت مسننا نہیں چاہتی تو ہم نے کونسا اُن کا قرض دینا ہے کہ اُن کو ضرور موقعہ دیں اور اس طرح سال میں تین دن قادیان میں گزارنے اور میری اور سلسلہ کے علماء کی تقریر میں سُننے کا جو موقعہ دوستوں کو ملتا ہے وہ ان کی نذر کر دیں " پھر فرمایا :- یہ وہی چالا کی ہے جیسے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مہاجرین اور انصار کو باہم لڑانے کے لئے منافقین کیا کرتے تھے۔مولوی صاحب نے سمجھا یہ جماعت بیوقوف ہے۔جب میں کہوں گا کہ قادیان کی جماعت تو اصل جماعت نہیں تو باہر والے خوش ہوں گے اور کہیں گے کہ مولوی صاحب نے ہماری تو تعریف کر دی ہے۔لیکن انہیں پتہ نہیں کہ جماعت ضدا تعالٰی کے فضل سے اس دھو کے میں آنے والی نہیں اور ہمارے دوست انہیں خوب سمجھتے ہیں۔جیسا کہ کسی نے کہا ہے بہر رنگے کہ خواہی جامہ سے پوش من انداز قدت را می شناسم یعنی تم خواہ کسی قسم کا لباس پہن کر آؤ میں پال سے اور قد کے انداز سے سمجھ جاتا ہوں کہ کون ہوگا " سے " الفضل ١ صلح / جنوری سالہ مبش صفحه ۴ : ١١٩٤٢ مرکی "