تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 184 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 184

162 جماعت اول نمبر پر آئی جس نے سب سے پہلے تار دیا کہ وہ مولوی صاحب کے اس حملہ کو بری نظر سے دیکھتے اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔اسی طرح جو کہ ضلع سرگودھا کے ایک احمدی نے حقیقی مومنانہ جذبہ دکھایا۔اور نہایت معقول رنگ میں جواب دیا۔انہوں نے لکھا کہ مولوی محمد علی صاحب اس بات پر مصر ہیں کہ میں باہر کی جماعتوں کو اپنی تقریر سنانا چاہتا ہوں۔ان کے دل میں یہ وہم ہے کہ باہر کے لوگ چونکہ عموماً نا خواندہ ہوتے ہیں اس لئے ممکن ہے قادیانی جماعت کا ساتھ چھوڑ دیں۔مگر مولوی صاحب کو معلوم ہونا چاہیئے میں موضع مجوکہ ضلع سرگودھا کا رہنے والا ہوں۔اس علاقہ کی جماعتیں آپ کے عقیدہ سے خوب واقف ہیں۔میں ان جماعتوں کے متعلق قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر سورج بجائے مشرق کے مغرب سے طلوع ہونے لگے تو بھی وہ ہرگز ہرگز حضرت امیرالمؤمنین کا پاک دامن چھوڑنے والی نہیں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے سالانہ جلسہ میں 5140′ پر جماعت انبالہ کی اولیت کا ذکر کیا اور مجوکہ کے احمدی کے اس جواب پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا " یہ جواب ہے تو بہت سادہ مگر ایمان کا نہایت عمدہ مظاہرہ ہے بیرونی جماعتوں نے محض اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ باہر سے قرار وادیں بھیجوا دیں۔بلکہ انہوں نے سالانہ جلسہ ہش کے اجلاس اول ( منعقدہ ۲۶ فتح / دسمبر) میں کوہ ہزاروں کی تعداد میں جمع تھیں حسب ذیل قرارداد پاس کی :- ر مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبالعین کا مطالبہ کہ ان کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تقریر کرنے کی ابعات دی بجائے حقارت کے ساتھ تھا را دیا جائے۔بیرونی جماعتوں میں سے کوئی بھی ان کا لیکچر مننا نہیں چاہتی۔چونکہ انہوں نے ہمارے مقدس اور جان سے پیارے امام حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور جماعت قادیان وار الامان کی جس کو تمام جماعتیں سب سے بہتر و افضل جماعت یقین کرتی ہیں سخت بنک کی ہے اس لئے وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کو اس سٹیج پر بولنے کی اجازت دی جائے۔ہم میں سے کوئی شخص بھی ان کی بات سننے کے لئے طیارہ نہیں۔" یہ قرار داد ملک عبدالرحمن صاحب خادم بی اے ، ایل ایل بی نے پیش کی اور متفقہ طور پر پاس کی گئی۔اب بیرونی احمدی جماعتوں کے جذبات و خیالات کا پوری طرح اظہار ہو چکا تھا اور مولوی محمد علی صاحب نه "الفضل " ۱۶ صلح / جنوری به بیش صفحه ۲۵ "افضل" یکم صلح رمجبوری لایه مش صفحه ۵۳ نو