تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 180
لتی جاتی ہیں۔۔۔غرض قادیان کے رہنے والوں کے متعلق یہ اتنا بڑا انتہام اور بہتان ہے کہ خود مولوی محمد علی صاحب بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔اول تو یہی دیکھ لو کہ قادیان میں انجمن کے ملازم کتنے ہیں۔قادیان میں دس ہزار احمدی بستے ہیں۔ان میں سے ملازم زیادہ سے زیادہ سو دو سو ہوں گے۔اگر ان کے ساتھ ان کے بیوی بچوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو پانچ چھ سو بن جائیں گے۔ان کے علاوہ چھ سات ہزار وہ لوگ ہیں جو زمیندار ہیں یا پیشہ ور ہیں۔اور ایک اچھی خاصی تعداد ان لوگوں کی ہے جن کے باپ بھائی یا خاوند وغیرہ گورنمنٹ کی ملازمت میں ہیں اور انہوں نے اپنے بچوں یا دوسرے عزیزوں کو قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا ہے۔ان پر پھیلا انجمن کا کیا دباؤ ہو سکتا ہے۔یا میرا ان پر کیا دباؤ ہو سکتا ہے۔وہ تو خود چندے دیتے اور سلسلہ کے لئے قربانیاں کرتے ہیں۔بہر حال کثرت ان لوگوں کی ہے جو پینشن یافتہ ہیں یا پیشہ ور ہیں زمیندار و غیرہ ہیں یا پھر قادیان میں وہ لوگ رہتے ہیں جن کے باپ بھائی وغیرہ گورنمنٹ کی ملازمت میں ہیں اور وہ انہیں تعلیم کے لئے اخراجات بھیج دیتے ہیں۔یا اگر وہ پڑھتے نہیں تو ان کا گزارہ بہر حال اپنے باپ یا بھائی کی آمد پر ہے۔اس قسم کے تمام لوگ کونسے جماعت کے دباؤ کے ماتحت ہیں۔۔خود پیغامیوں میں ایک خاصہ طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جو گورنمنٹ کی ملازمت میں ہے مگر ان کے نزدیک گورنمنٹ کی ملازمت ان کے اعتقادات پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی۔میاں غلام رسول صاحب قہ صفحہ گذشتہ : اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرتسیح موعود پر قادیان میں ہجرت کر کے آنے والے احمدیوں کی نسبت الہام ہوا " أَصْحَبُ الصُّفَةِ وَمَا أَدْرُوكَ مَا أَصْحَبُ الصُّفَةِ تَرَى أَعْيُتُهُمْ تَفَيْضُ مِنَ الدَّمْعِ يُصَلُّونَ عَلَيْكَ “ اس الہام کی تشریح حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے قلم سے یہ فرمائی کہ خدا تعالیٰ نے انہی اصحب الصفہ کو تمام جماعت میں سے پسند کیا اور جو شخص سب کو چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا اس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے اور یہ ایک پیشگوئی عظیم الشان ہے اور ان لوگوں کی عظمت ظاہر کرتی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے علم میں تھے کہ وہ اپنے گھروں اور وطنوں اور املاک کو چھوڑ دیں گے اور میری ہمسائیگی کے لئے قادیان میں آکر بود و باش رکھیں گے " ا تریاق القلوب طبع اول صفحه ۶۰)