تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 179 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 179

۱۷۲ ہو وہ تشریف لے آئیں۔میں قادیان کے لوگوں کو جمع کردوں گا بلکہ باہر بھی اعلان کر دوں گا کہ جو دوست آنا چاہیں آجائیں۔وہ اپنی باتیں سنا دیں اور میں یا میرا نمائندہ اپنی سُنا دے گا۔۔۔۔مولوی صاحب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ان کے جلسہ پر بھی اتنے آدمی نہیں ہوتے جتنے یہاں عام جمعہ کے دن جمع ہوتے ہیں۔چنانچہ اس وقت بھی جمعہ کے لئے جتنے لوگ بیٹھے ہیں اتنے کبھی بھی انہیں اپنے جلسہ میں نصیب نہیں ہوتے۔اگر میں ان کے جلسہ پر جاؤں یا میرا نمائندہ جائے۔فرض کرد مولوی ابو العطاء صاحب جائیں تو انہیں وہاں اتنے سامعین تو نہیں مل سکتے جتنے یہاں جمعہ میں بیٹھے ہیں۔پس انہیں اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔اور حق تو یہ ہے کہ باتیں ایک دوسرے کی سُننے والے سنتے اور پہنچانے والے پہنچاتے ہی رہتے ہیں۔اس انتظام کی بھی کوئی خاص ضرورت نہ تھی۔یہ تو ہم نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے بطور احسان دعوت دی تھی مگر انہوں نے اس احسان کی قدر نہ کی اور غیر معقول مطالبات شروع کر دیئے لے حضرت امیر المومنین نے جناب مولوی محمد علی صاحب کو اپنے خیالات قادیان کی مرکزی جماعت کو شنانے کے لئے جو سنہری موقعہ دیا تھا اُسے انہوں نے اپنے عقائد کی کمزوری کو بھانپ کر خود ہی ضائع کر دیا۔مگر اپنے رفقار کو طفل تسلیاں دیتے ہوئے کہا :- " فرمایا کہ ان کی جماعت وہ تو نہیں جو قادیان میں ہے وہ تو اُن کے ملازمین اور ایسے لوگ ہیں۔جن کی ضروریات اُن سے وابستہ ہیں۔جماعت تو وہ چیز ہے جو اس سلسلہ کو قائم رکھنے والی ہے۔بیرونی لوگ جو جلسہ پر آتے ہیں اصلی جماعت وہ ہے" سے سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے حضرت مسیح موعود پر اس نئے حملہ کا پہیہ زور دفاع کرتے ہوئے ور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو قادیان میں رہنے کی تعلیم دی ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا یا کم سے کم یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا وہ منافق ہے اور مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک جو لوگ قادیان میں آبسے ہیں وہ منافق ہیں۔گویا حضرت میسج موجود و علیہ الصلوۃ والسلام نے جتنی باتیں بیان فرمائی تھیں۔غیر مبالعین کے نزدیک وہ سب ۲۱۹۴۱ له " الفضل" افتح دسمبر ۳۳ مه مش صفحه ۵-۶ : کے پیغام صلح" در دسمبر در صفحه ۵ کالم ۱-۲ سے حاشیہ اگلے صفر پر ملاحظہ ہو۔