تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 178 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 178

141 کہتے ہیں یہی اسلامی خلق ہے تو وہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی اس طرح مہمان نوازی کی دعوت دے دیا کریں اور لکھ دیا کریں کہ آپ اس قدر آدمیوں کی مہمان نوازی کا انتظام کریں۔ہمارے آدمی آپ کو کچھ باتیں سُنانے کے لئے آتے ہیں۔ہم دیکھیں گے کہ وہ کس طرح اس اسلامی خلق پر عمل کرتے ہیں۔ہماری تو لاہور کی جماعت ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی ہے۔باہر سے بھی لے جانے کی ضرورت نہیں۔اگر وہی ان کے اس اسلامی خلق کا امتحان کرنے لگے تو ان کو دو چار دفعہ میں ہی پتہ لگ جائے۔عرض مہمان کا یہ حق نہیں کہ وہ کہے کہ میری تقریر سننے کے لئے ہمیں پچیس ہزار آدمی جمع کئے جائیں اور ان کو کھانا بھی کھلایا جائے اور ایسا مطالبہ پورا نہ کر سکنے کا نام اسلامی خلق کی ضد رکھنا زیرہ دستی اور دھینگا مشتی ہے۔اگر مولوی صاحب ثابت کر دیں کہ یہ بھی مہمانوازی میں شامل ہے کہ کوئی شخص کہے۔کہیں اپنی تقریر سُنانے آرہا ہوں اور اُسے سننے کے لئے ہمیں چھپیں ہزارہ آدمی جمع کئے جائیں اور ان کے لئے کھانے وغیرہ کا انتظام کیا جائے تو وہ ایسی آیت اور حدیث جس میں اسے مہمان نوازی کا حصہ قرار دیا گیا ہو لکھ کر بھیج دیں تو میں مان لوں گا چاہے مجھے کتنا نقصان ہو۔میں فوراً تسلیم کرلوں گا۔لیکن اگر واقعی ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کی مہمان نوازی اسلامی خلق میں داخل ہے تو اس تعلق کا تجربہ ہمیں ایک سال کے لئے کہ لینے دیں۔اس کے بعد ہم سے مطالبہ کریں۔ہاں مولوی صاحب اگر میری دعوت کے مطابق آنا چاہتے ہیں تو اپنی سہولت کے لحاظ سے جس موقعہ پر انہیں میں دعوت دوں آجائیں۔لیکن ان کا ہمارے جلسہ کے وقت کو اپنے لئے حاصل کرنے کا مطالبہ کرتا اور یہ کہنا کہ زائد وقت دے کر اپنے بھی اور ان کے بھی ہزاروں آدمیوں کے کھانے کا انتظام کروں یہ کوئی اسلامی حلق میں شامل بات نہیں۔۔۔۔ہو جا ئز صورت تھی وہ تو میں نے خود پیش کر دی تھی اور اس کے لئے میں اب بھی تیار ہوں۔اس صورت میں میرے لئے صرف اتنا کام ہوتا کہ میں قادیان کے لوگوں کو جمع کر دیتا مگر ان کا یہ مطالبہ کہ جلسہ کے دنوں میں ہم ہزاروں لوگوں کو روکیں اور ان پر خرچ کریں یہ مہمان نوازی کا طریق اسلام کی کسی تعلیم میں میں نے نہیں پڑھا ہاں میری دعوت موجود ہے۔جلسہ کے موقعہ کے سوا جب وہ آ سکیں اور مجھے بہت