تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 177 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 177

14۔جناب مولوی محمد علی صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ قادیان میں جا کر ہم آپ کے جہان ہوں گے اور آپ اور آپ کی جماعت کی حیثیت میزبان کی ہوگی اور میزبان کا یہ مطالبہ کہ مہمان اپنا ہی نہیں میزبان کا خرچ بھی ادا کرے مہمان نوازی کے اسلامی مشفق کی بالکل ضد ہے لے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس " زیر دستی کی دعوت " کا جواب یہ دیا کہ " میں نے جو دعوت دی تھی وہ ایسے موقعہ کے لئے تھی جب میرے لئے سہولت ہو مولوی صاحب کا مطالبہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تقریر کا ہے۔لیکن جلسہ کے موقعہ پہ ہماری جماعت کے لوگ لاکھوں روپیہ خرچ کر کے یہاں پر میری اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی باتیں سننے کے لئے آتے ہیں ، مولوی صاحب کی نہیں۔اگر انہیں ان کی باتوں کا شوق ہوتا تو یہاں نہ آتے بلکہ لاہور جاتے۔پس جو لوگ لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ کر کے میری اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی باتیں سننے آتے ہیں انہیں میں مولوی صاحب کی خاطر کیوں مایوس کروں اور کیوں تکلیف میں ڈالوں۔البتہ میں نے یہ کہا تھا کہ اگر وہ اس موقعہ پر باتیں سُنانا چاہیں تو ہم جلسہ کی تاریخوں سے آگے یا پیچھے دو دن بڑھا دیں گے اور میں اعلان کر دوں گا کہ دوست کوشش کر کے ان دنوں کے لئے ٹھہر جائیں۔مگر ان مہمانوں کو چونکہ مولوی صاحب کی باتیں سننے کے لئے ہی ٹھہرایا جائیگا اس لئے ان دنوں کا خرچ بھی انہی کو دینا چاہیئے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میرا یہ مطالبہ کہ مہانی اپنا ہی نہیں میزبان کا خرچ بھی ادا کرے جہان نوازی کے اسلامی معلق کی بالکل ضد ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ میزبان تو میں ہوں اور میں نے تو اپنا خرچ نہیں مانگا۔باہر سے آنے والے تو مہمان نہیں اور تین مہمانوں کو ان کی دعوت پر اور ان کی باتیں سننے کے لئے ٹھہرایا جائے ان کا خرچ تو بہر حال انہی پر پڑھنا چاہیئے اور یہ اسلامی خلق کے بالکل مضلات بات نہیں۔اگر تو مولوی صاحب کہیں کہ میں خود آتا ہوں تو ہم ان کی مہمانوازی کریں گے۔لیکن یہ کہ مہمان کہے میرے ساتھ اتنے ہزار آدمیوں کی بھی دعوت کرو اور ان کے لئے بھی کھانے کا انتظام کرو یہ کوئی اسلامی حلق نہیں ہے اور ایسی بات نہ کر سکنے کا نام اسلامی مخلق کی ضد کیں نے تو کسی جگہ نہیں پڑھا۔اگر جیسا کہ وہ اخبار پیغام مصلح» ۱۳۱ نومبر ۱۹۴۷ و صفحه ۵ کالم ۵۱ •