تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 123 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 123

۱۲۰ ہوا۔اور یہ میری خوش نصیبی تھی کہ عرفانی صاحب موجود تھے۔اور ان کا مشن نہایت کامیابی اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔اس مرتبہ کی طلاقات تجدید اتحاد کا باعث ہوئی اور سیشن کی کارگذاری پر میشن کے رسوخ پر مبلغ کے خلوص پر غور کرنے کا بہت زیادہ موقع کا۔میں ان تاثرات کو لئے ہوئے فلسطین، شام ، استنبول اور بولن وغیرہ گیا۔یہاں مجھے جماعت احمدیہ کی تنظیم اور کوششوں کا ثبوت ملتا گیا۔مجھے حقیقتاً نہایت صد قدل سے اس کا اعتراف ہے کہ میں نے ہر جگہ جماعت احمدیہ کے مبلغوں کی کوششوں کے نقوش دیکھے۔ہر جگہ اسلامی روایات کے ساتھ تنظیم دیکھی۔ہر جگہ اس جماعت میں خلوص اور نیک نیتی پائی۔جماعت احمدیہ میں سب سے بڑی خوبی اتحاد عمل اور امام جماعت کے احکام کی پابندی ہے۔اس لئے اس کے اراکین کہیں اور کسی حال میں شعار اسلام اور احکام اسلام کو نظر انداز نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی اصلی غرض اور فرض سے انجان ہوتے ہیں۔تقریروں، تحریروں یا ملاقاتوں میں ان کا نقطہ نظر موجود ہوتا ہے اور وہ اشارہ کتابیشہ اپنا کام کئے بھاتے ہیں۔محنت برداشت کرتے ہیں۔غیر مانوس اور غیر مشرب لوگوں میں رسوخ پیدا کر کے اپنے فرائض کی تکمیل کرتے ہیں۔اور اپنی تبلیغی حیثیت کو نمایاں رکھتے ہیں۔محمود احمد صاحب عرفانی نے یہ میں قاہرہ سے ایک اخبارہ اسلامی دنیا بھی اُردو زبان میں ٹائپ پریس سے شائع کیا تھا۔یہ اخبار مصور بھی تھا اور اُردو میں اسلامی دنیا کی خبریں نہایت شرح وبسط سے شائع ہوتی تھیں۔افسوس ہے کہ ناگزیر مجبوریوں نے اس اخبار کو جاری نہ رہنے دیا اور اشاعت بند ہو گئی۔اس اخبار میں کچھ حصہ میرے سفر کا بھی شائع ہوا تھا۔شام و مصر کی ان ملاقاتوں کا یہ اللہ ہوا کہ مجھے جماعت احمدیہ کے صدر مرکزہ قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔دسمبر 11 ہ میں قادیان دارالسلام پہنچا۔قادیان امرتسر سے تقریباً ۵۰ میل ہے۔دیل جاتی ہے مگر دو تین بجگہ اس کو بدلنا پڑتا ہے۔یہ ایک گاؤں ہے جہاں مجھے احمدیہ کے عروج کے ساتھ اس قصبہ کو بھی عروج ہو رہا ہے۔سڑکیں بن گئی ہیں۔مکانات تعمیر ہو گئے ہیں۔باغ اور کھیلوں کے میدان تیار کئے جارہے ہیں۔اسپتال، مدارس اور بورڈنگ ہاؤس تیار ہیں جہاں اس جماعت کے اساتذہ جماعت کے ہونہار بچوں کی تعلیم و