تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 110
تو فساد ہونے کا احتمال غالب تھا۔لیکن بجائے اس کے کہ (حکام ناقل) اس شریفانہ سلوک کی قدر کرتے ، انہوں نے سمجھا کہ احمدی ڈر گئے " سے وہ حکام جو فتنہ پردازوں کے سامنے جیسا کہ گذشتہ کالی کا نفرنس میں ہوا دب جاتے ہیں اور شرفاء کی شرافت سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں وہ ہر گز انتظام حکومت کے قابل نہیں۔اور وہ اپنے اس قسم کے رویہ سے شرفاء کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ بھی مقابلہ میں شرافت کو چھوڑ کر مفسده پردازی کا انسداد جبر اور زور سے کریں“ سے بهر حال جلوس قادیان کی احمدی آبادی میں سے گزرنے کے میں کانفرنس میں اشتعال انگیز تقریریں بعد میاں کے تھلے بیان میں کائی کا نفرنس رود جاری رہی اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے خلاف بہت بہودہ سرائی کی گئی۔انتہائی اشتعال انگیز تقریروں کے بعد یہ تجویز پاس کی گئی کہ چونکہ اس علاقہ میں اس خبر کے پھیلنے سے کہ مرزا صاحب دس دس میل تک ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ اس تجویز کو کامیاب I a نہ ہونے دے ورنہ علاقہ میں سخت اشتعال پھیلے گا جس کے نتائج بھیانک ہوں گے " " اور اس تجویز کی تائید قادیان کے ملا عنایت اللہ صاحب استماری نے پُر جوش انداز میں کی۔اور یہانتک کہا کہ "جب تک ہم زندہ ہیں ، مسلمان زندہ ہیں ، جب تک گورو گوبند سنگھ کے سنگھ زندہ ہیں ، مرزا نواب نہیں ہو سکتا۔" کا نفرنس میں آخری تقریر سردار تیجا سنگھ صاحب کی تھی۔جنہوں نے کہا :- پرسوں مرزائیوں کا ایک وفد ماسٹر تارا سنگھ صاحب سے ملنے گیا تھا۔ہم لوگ وہاں نہ تھے۔ماسٹر صاحب پر ان کی باتوں کا کچھ اثر ہو گیا۔ہمیں کہنے لگے وہ تو اس خبر کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سکھوں کی دل آزاری نہیں کرتے۔میں نے کہا اس سے زیادہ دل آزاری کیا ہوگی ، کہ ند " الفضل" اس فتح دسمبر امه اش صفحه ۵ کالم : "الفضل" ۱۹ نبوت / نومبر TANATILATION نہش صفحه ۸ کالم : A ܀ کے " الفضل" ۲۰ نبوت / نومبر یش صفحه ۱-۲-۱۔اس پرچہ میں اکالی کا نفرنس کی مفصل رو نداد شائع شدہ ہے