تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 109
1۔4 کریں کیونکہ اس علاقہ میں احمدیوں کے سکھوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور مرزا صاحب قادیان والے ہمیشہ معزز سکھوں سے ہمدردانہ سلوک کرتے رہے ہیں" و شخط (سردار) نو نہال سنگھ ذیلدار کماله ، سردار بخشیش سنگھ آن بهام ، ( سردار) بھگت سنگھ ذیلدار پنڈا روڑی ، دسردار) اندرسنگھ ڈسٹرکٹ درباری ڈلہ # اس واضح تردید کے باوجود دشمنان احمدیت نے سکھ عوام کو شتعل سکھوں کا جلوس اور اجتماع کر کے اجتماع کرنے کی تیاریاں اندر ہی اندر بھاری رکھیں۔اور آخر اُن کے بجھتے ، ارنبوت / نومبر ہر مہیش کو قادیان میں داخل ہو گئے لیے پولیس افسروں نے پہلے خود ہی 190 ایک راستہ اُن کے لئے تجویز کیا اور احمدیوں سے کہا کہ وہ ان کے علاقہ سے نہیں گزرے گا۔مگر جب سکھوں نے احمدی علاقہ سے گزرنے کے لئے اپنا رخ تبدیل کر لیا تو پولیس روکنے کی بجائے ان کے آگے آگے ا تو وہیں چل پڑی اور اپنا فیصلہ خود ہی رو کر دیا ملے یہ موقعہ انتہائی نازک تھا اور قریب تھا کہ تصادم تک نوبت پہنچ جاتی۔مگر حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی بر وقت راہنمائی اور صبر و تحمل کی تلقین کی بدولت احمدیوں نے حیرت انگیز طور پر اپنے بعذبات پر قابو رکھا اور قادیان میں فرقہ دارانہ فساد کرانے کی سب کوششیں ناکام ہو گئیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے حکام کے معناً محکام کے معاندانہ رویہ پرتنقید روبه ی زبردست تنقید کی اور فرمایا۔رویہ پر ہمیں ضلع کے حکام کی طرف سے یقین دلایا گیا تھا کہ سکھوں کے جلوس کے لئے ایک راستہ معین کر دیا گیا ہے اور یہ کہ وہ اسی راستہ کو اختیار کریں گے دوسرا راستہ اختیار نہیں کریں گے لیکن بطور احتیاط ہم نے دوسرے راستے پر اپنے آدمی کھڑے کر دیئے تھے۔مگر سکھوں نے اپنے معین راستہ کو چھوڑ کر وہ راستہ اختیار کیا جس کے متعلق یقین دلایا گیا تھا کہ وہ اس طرف نہیں جائیں گے۔اگر احمدی احباب کو یہ ہدایت نہ ہوتی کہ جو سکھ قادیان میں اکٹھے کئے گئے ہیں انہیں اصل حقیقت کا علم نہیں۔وہ اگر اس دوسرے راستے سے آرہے ہیں تو انہیں گزرنے دیا جائے۔" الفضل ۱۶ نبوت / نومبر ۳۱۹ بیش صفحه : کالم ۵۱ له الفضل" وار نبوت / نومبر ب الله بش صفحه ۸ کالم 1 : $190 A -1 سے " الفضل حكم صلح جنوری در پیش صفرا کالم ۱-۲+ یکم / مادرش