تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 62 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 62

۵۸ - جب حضور کسی امر کے متعلق ہدایات دے رہے ہوں تو حضور کے کلام کو قطع نہ کیا جائے ، بلکہ جب ساری بات ختم ہو جائے تو پھر اگر کسی امر کی تشریح کی ضرورت محسوس ہو تو صرف اس صورت میں کوئی بات دریافت کی جائے۔۔اگر میں پھیل رہا ہوں تو مجھ سے بات کرنے کی غرض سے میرے پھلنے میں رکاوٹ نہ پیدا کی جائے۔کہ میرا راستہ روکا جاوے بلکہ ساتھ چلتے چلتے اپنی بات کی بھائے۔طاقات کے لئے جس قدر وقت لیا جائے اس وقت میں کام کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی حیائے اگر مزید وقت کی ضرورت ہو تو یا تو اس وقت خاص اجازت کی بجائے یا باقی کام کسی دوسرے وقت میں اجازت لے کر کیا جائے۔ہم۔جس کام کے متعلق ہیں کہ دوں کہ پھر پیش ہو تو اس کو جلدی ہی موقعہ حاصل کر کے پیش کر دیا جاے نہ یہ کہ دوبارہ پیش کرنے کے لئے ہفتے یا مہینے لگا دیئے جائیں۔-۵- اگر میں کسی کام کے متعلق کوئی ہدایت دوں کہ یہ کام اس طور پر کیا جائے تو جو سمجھ میں آئے اس کے مطابق فوراً ہی اس کام کا خاکہ پیش کر دیا جائے تا کہ مجھے تسلی ہو کہ صحیح لانو پر یہ کام کیا جارہا ہے یا کچھ غلط فہمی ہے۔اور اگر کوئی غلط فہمی ہو تو اس کی فوراً اصلاح کر دی جائے۔- اگر ملاقات کے لمبا ہو جانے کی وجہ سے نماز کا وقت آجائے تو فوراً مجھے یاد دلا دیا جائے کیونکہ بعد میں مجھے اس احساس سے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ احباب کو مسجد میں نماز کے لئے اس وجہ سے انتظار کرنا پڑا۔ہے مولوی عبد الرحمن صاحب اثور کے بیان کے مطابق تحریک جدید کے اخراجات کے بنیادی اصول ابتدائی روم میں کئ سال تک یہی دستور رہا کہ کارکنان کسی کام کے عرصہ میں کئی سال تک یہی سرانجام پا بچانے کے بعد اس پر میں قدر اصل خریج ہوتا اُسے پیش کرتے تھے تا کہ قربانی کا جذبہ اور اماسیا، کچھ لئے کم از کم خوری کرنے کا جذبہ قائم رہے تھے تحریک جدید کے ابتدائی زمانہ میں حضور نے انور صاحب کو ، ارشاد فرمایا کہ تم یہ فکر نہ کرو کہ روپیہ کہاں سے آئے گا روپیہ تو اللہ کے فضل سے جس قدر ضرورت ہوگی نہتا ہو جائے گا۔تم یہ بتاؤ کہ اس کو کیسی کیس کام پر " له " الفرقان" "حضرت فضل عمر نمبر دسمبر 1990 ه و جنوری 1 هه مه ۱۲۰۰۰ ید ماہنامه "خالد" اکتوبر ۱۹۶۷ : صفحه ۸۳۸